اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):سال 2025 پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں مصروف اور اہم سال ثابت ہوا، جہاں قومی اسمبلی نے ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کیا، قومی اسمبلی نے پورے سال کے دوران 11 سیشنز منعقد کئے، جن میں کل 85 اجلاس ہوئے۔42 حکومتی اور 49 نجی بل متعارف جبکہ 42 سرکاری اور 13 نجی بل منظور کئے گئے۔رپورٹ کے …
2025 ،پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں مصروف اور اہم سال،27ویں آئینی ترمیم سمیت 31قوانین منظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):سال 2025 پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں مصروف اور اہم سال ثابت ہوا، جہاں قومی اسمبلی نے ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کیا، قومی اسمبلی نے پورے سال کے دوران 11 سیشنز منعقد کئے، جن میں کل 85 اجلاس ہوئے۔42 حکومتی اور 49 نجی بل متعارف جبکہ 42 سرکاری اور 13 نجی بل منظور کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے یہ اجلاس ملک کی قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور اہم قومی مسائل پر بحث کے لیے کلیدی تھے۔
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں 4 بلز منظور کئے گئے۔اہم امور پر بحث اور اہم قرادادیں بھی منظور کی گئیں۔آخری سیشن 10 دسمبر 2025 کو ختم ہوا، جس کے بعد اسمبلی نے سال کے اختتام تک کوئی نیا سیشن طلب نہیں کیا۔قومی اسمبلی کے ان اجلاسوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید بحثیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ ابتدائی سیشنز میں معاشی اصلاحات اور سیکورٹی مسائل پر توجہ مرکوز رہی جبکہ سال کے وسط میں آئینی ترامیم اور ڈیجیٹل قوانین پر کام ہوا۔ 20واں سیشن 29 ستمبر سے 10 اکتوبر تک جاری رہا، جس میں بجٹ کی تفصیلات اور ٹیکس قوانین پر غور کیا گیا۔
اسی طرح 19واں سیشن یکم ستمبر سے 5 ستمبر تک منعقد ہوا، جہاں ماحولیاتی پالیسیاں زیر بحث آئیں۔ سال کے آخری سیشن یعنی 22واں سیشن 25 نومبر سے 10 دسمبر تک جاری رہا، جس میں مشترکہ اجلاس بھی شامل تھا اور اہم آئینی ترامیم کی منظوری دی گئی۔اس سال کی سب سے نمایاں بات قانون سازی کی رفتار تھی۔ قومی اسمبلی نے 31 قوانین منظور کیے، جن میں 27 حکومتی بل اور 4 پرائیویٹ ممبران کے بل شامل تھے۔
یہ قوانین مختلف شعبوں جیسے آئینی ترامیم، ڈیجیٹل حقوق، معاشی اصلاحات، اور انسانی حقوق سے متعلق تھے۔رپورٹ کے مطابق اسمبلی سے منظور ہونے والے اہم قوانین میں "27ویں آئینی ترمیم بل” شامل ہے، جس نے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی اور بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔دیگر نمایاں بلز میں "ڈیجیٹل کرائم ایکٹ”، "آسان کاروبار ایکٹ 2025″، اور "نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2025” شامل ہیں، جو ملک کی ڈیجیٹل اکانومی اور انسانی حقوق کو مضبوط کرنے کے لیے بنائے گئے۔
یہ قوانین ملک کی معاشی بحالی اور سیکورٹی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ سال 2025 میں پارلیمنٹ نے تاریخی کام کیا ہے، جو ملک کی ترقی کی بنیاد رکھے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پارلیمنٹ نے مجموعی طور پر 41 قوانین نافذ کیے، جن میں سینیٹ کی منظوری اور صدر کی توثیق بھی شامل ہے۔اس سال 8 صدارتی آرڈیننسز بھی اسمبلی میں پیش کیے گئے، جو بعد میں قوانین کی شکل اختیار کر گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 کا سال پارلیمانی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک ریکارڈ سال تھا لیکن چیلنجز جیسے سیاسی تناؤ اور معاشی دباؤ نے کام کو متاثر کیا۔آئندہ سال کے لیے اسمبلی کو نئے چیلنجز جیسے الیکشن اصلاحات اور ماحولیاتی قوانین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔








