اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اپنے پختہ عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے، اس کے باوجود کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان آج منعقد ہونے والے کمیٹی کے اہم اجلاس میں شرکت میں ناکام رہے۔یہ اجلاس جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کو بروقت اور باقاعدہ دعوت نامہ جاری کیے …
وفاقی حکومت کا آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اپنے پختہ عزم کااعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اپنے پختہ عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے، اس کے باوجود کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان آج منعقد ہونے والے کمیٹی کے اہم اجلاس میں شرکت میں ناکام رہے۔یہ اجلاس جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کو بروقت اور باقاعدہ دعوت نامہ جاری کیے جانے کے بعد طلب کیا گیا تھا۔
تاہم، اس قدر اہم مشاورتی اجلاس میں ان کی عدم حاضری کو افسوسناک قرار دیا گیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب عزم کے مطابق خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے اور آئندہ پیش رفت کے لیے مسلسل باہمی روابط ناگزیر ہیں۔وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران، انجینئر امیر مقام نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی صدارت کی ہے۔
یہ کاوشیں وفاقی حکومت کی جانب سے عوامی خدشات کو مکالمے، قانونی جائزے اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کے مخلصانہ ارادے کی عکاسی کرتی ہیں۔ 4اکتوبر2025 کے معاہدے کے نتیجے میں ایک اجلاس 2جنوری 2026 کی شام وزارتِ امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کے کمیٹی روم میں منعقد ہونا طے پایا تھا۔31 دسمبر 2025 کو اجلاس کا نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ کمیٹی کے دیگر اراکین نے خاصا وقت ان کا انتظار کیا۔
حکام نے اس امر پر زور دیا کہ آج کے اجلاس کو نظر انداز کرنا ایک نامناسب تاثر دیتا ہے اور تعمیری روابط کی روح کو نقصان پہنچاتا ہے۔ وفاقی حکومت مکالمے کے لیے بدستور تیار ہے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر زور دیتی ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے بہترین مفاد میں مسائل کے بروقت اور مؤثر حل کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی عمل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرکت کرے۔
اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کے سینئر ترین وزیر اور وزیر قانون، عبد الواحد کو کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا۔ اجلاس میں راجہ اعجاز احمد خان، ایڈووکیٹ، خاشح رحمان، ایڈیشنل سیکرٹری، قانون و انصاف اور تیمور زرین خان، کنسلٹنٹ (ریسرچ)، وزارتِ قانون و انصاف نے بھی شرکت کی۔








