ایف بی آر نے قانون کی خلاف ورزی پرسفینہ شوگر ملز میں چیوٹس سیل کردیئے

اسلام آباد۔4جنوری (اے پی پی):ایف بی آر نے قانون کی خلاف ورزی پرسفینہ شوگر ملز میں چیوٹس سیل کردیئے۔اتوار کوایف بی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کی ہدایات پر سال 2025-26 کے لیے گنے کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے چینی کی پیداوار کی نگرانی کے لیے ایک جدید اور مؤثر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس وقت شوگر …

اسلام آباد۔4جنوری (اے پی پی):ایف بی آر نے قانون کی خلاف ورزی پرسفینہ شوگر ملز میں چیوٹس سیل کردیئے۔اتوار کوایف بی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کی ہدایات پر سال 2025-26 کے لیے گنے کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے چینی کی پیداوار کی نگرانی کے لیے ایک جدید اور مؤثر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس وقت شوگر سیکٹر میں نگرانی کے پانچ نظام نافذ العمل ہیں جن میں ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس، چینی کی بوریوں کی گنتی کے لیے ہوپرز پر خودکار کاؤنٹرز، ویڈیو ریکارڈنگ، ڈیجیٹل آئی کاؤنٹنگ، شوگر ملز کے آؤٹ گیٹ پر چینی کی تمام ترسیل کے لیے ایس-ٹریک انوائسنگ سسٹم اور چینی کی تیاری و فروخت کی نگرانی کے لیے عملے کی تعیناتی شامل ہے۔

اس نئے نظام کو موثر بنانے کے لیے ہر شوگر مل میں ایف بی آر کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور انٹیگریٹڈ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے پورے سسٹم اور عملے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر کے سینئر افسران باقاعدگی سے شوگر ملوں کے دورے کررہے ہیں اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک ( آئی آر ای این) کی جانب سے چیکنگ بھی کی جا رہی ہے۔ یہ انفورسمنٹ نیٹ ورک سپلائی لائن کے سارے عمل کی نگرانی کررہا ہے اور اس امر پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہے کہ آیا چینی مستند ڈسٹری بیوٹرز کو فروخت کی جا رہی ہے یا ذخیرہ اندوزوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔مندرجہ بالا اقدامات اور شوگر ملز کی مسلسل نگرانی کے تسلسل میں اتوار کو سفینہ شوگر ملز لالیاں ضلع چنیوٹ میں تعینات ایف بی آر کے عملے نے مل کی دو چیوٹس کو سیل کر دیا جن پر مل انتظامیہ نے مطلوبہ ڈیجیٹل آئی کیمرے اور این وی آر سسٹم نصب نہیں کیے تھے، جو کہ سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت ٹریک اینڈ ٹریس قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

چنانچہ ایف بی آر ٹیم نے ان دونوں چیوٹس کو اس وقت تک کے لیے سیل کر دیا ہے جب تک مل انتظامیہ ان پر ڈیجیٹل آئی کیمرے اور این وی آر نصب نہیں کر لیتی۔حکومتِ شوگر سیکٹر میں ٹیکس چوری اور نان کمپلائنس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتی ہے۔ یہ اقدامات شوگر سیکٹر میں ٹیکس انفورسمنٹ کو مضبوط بنانے اور سرکاری محصولات کے تحفظ کے لیے ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں۔ کرشنگ سیزن کے اختتام کے بعد بھی سخت نگرانی اور بروقت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ قانون پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور واجب الادا ٹیکس کی وصولی کے بعد صارفین کو چینی کی باقاعدہ فراہمی برقرار رکھی جاسکے۔

 

مزید خبریں