نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ چین واضح سٹریٹجک پیش رفت ہے، رشید صافی

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ چین معمول کی سفارت کاری نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیش رفت ہے، یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل کرنے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک مستقبل کے لئے مشترکہ سمت کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔بین الاقوامی اور چینی امور کے ماہر رشید صافی …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ چین معمول کی سفارت کاری نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیش رفت ہے، یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل کرنے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک مستقبل کے لئے مشترکہ سمت کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔بین الاقوامی اور چینی امور کے ماہر رشید صافی نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساتویں پاک چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اور چین سیاسی اعتماد، معاشی تعاون اور سلامتی کے معاملات کو ایک جامع فریم میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

رشید صافی نے کہا کہ اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ای کے درمیان ہونے والی ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر مکمل اتفاق کیا کہ پاک چین دوستی خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مرکزی محور سی پیک کا دوسرا مرحلہ تھا۔ پہلے مرحلے میں توانائی اور انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھی گئی جبکہ اب فیز ٹو صنعتی ترقی، برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پر مرکوز ہے۔ پاکستان نے چینی قیادت کو اعتماد میں لیا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے لیے پالیسی تسلسل، انتظامی سہولت اور مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

چین نے پاکستان کی تیاری اور سنجیدگی کو سراہتے ہوئے صنعتی تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔رشید صافی نے مزید کہا کہ علاقائی اور عالمی امور پر بھی ہم آہنگی نظر آئی۔ افغانستان کی صورتحال، علاقائی استحکام اور کثیر الجہتی فورمز پر قریبی تعاون پر اتفاق ہوا۔ دونوں ممالک کا مشترکہ مؤقف ہے کہ خطے میں امن کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ محض ایک علامتی موقع نہیں بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ 2026 کے دوران مشترکہ نمائشیں، سرمایہ کاری فورمز، ثقافتی تقریبات اور تعلیمی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی نسل تک منتقل کریں گے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی جانب سے سالگرہ کے لوگو کی رونمائی اسی سلسلے کی علامت ہے۔رشید صافی نے کہا کہ اقتصادی تعاون کے حوالے سے بھی ٹھوس اشارے ملے ہیں۔ تجارت، مالیاتی تعاون، زراعت، معدنیات، قابل تجدید توانائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے شعبے مستقبل کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ چینی صنعتیں پاکستان منتقل ہوں تاکہ مقامی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو ۔ رشید صافی نے کہا کہ اس دورے نے واضح کر دیا ہے کہ پاک چین تعلقات ایک نئے اور زیادہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سی پیک فیز ٹو، بی آر آئی کا جدید رخ اور مضبوط سکیورٹی تعاون پاکستان کی معاشی اور اسٹریٹجک سمت متعین کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بدستور مضبوط ہے اور یہی اعتماد خطے کے امن اور ترقی کی بنیاد بنے گا۔

مزید خبریں