اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا لیکن افسوس کہ بھارت کی غاصبانہ سوچ اقوام متحدہ کی نگرانی میں شفاف رائے شماری سے ڈرتے ہوئے تقریباً آٹھ دہائیوں سے اس میں رکاوٹ ہے،ہم سفارتی اور اخلاقی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کی …
بھارت آٹھ دہائیوں سے حق رائے دہی میں رکاوٹ ہے،سفارتی اور اخلاقی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا لیکن افسوس کہ بھارت کی غاصبانہ سوچ اقوام متحدہ کی نگرانی میں شفاف رائے شماری سے ڈرتے ہوئے تقریباً آٹھ دہائیوں سے اس میں رکاوٹ ہے،ہم سفارتی اور اخلاقی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ یوم حق خود ارادیت پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم سفارتی اور اخلاقی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے، بھارت نے 5 اگست 2019 جیسے اقدامات اور بے پناہ ظلم سے کشمیریوں پر جبر کی انتہا کردی لیکن مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو سلام ہے کہ وہ آج بھی اپنے حق خود ارادیت کی جنگ لڑرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور عوام بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں، وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے لیکن مودی سرکار کو اس سے پسپائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جنگی میدان میں ہم سے بدترین شکست کھاچکا ہے، اس میں ہم سے لڑنے کی سکت نہیں ، اس لئے بہتر یہی ہے کہ اب مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم اور بربریت کا بازار گرم کرنے کے بجائے ان کو حق خود ارادیت دے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس خطے میں امن کی علامت ہے، ہم جنگ و جدل نہیں چاہتے لیکن ہم نے ثابت کیا کہ اپنا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔








