قوموں کی اصل طاقت مضبوط ادارے اور تربیت یافتہ انسانی وسائل ہوتے ہیں، عالمی معیار کی جامعات شفاف گورننس، مؤثر نظم و نسق اور احتساب سے بنتی ہیں، احسن اقبال

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ مکتب کا آغاز پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی عزم، شفافیت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا واضح پیغام ہے، ملک کی جامعات اب کاغذی کارروائی سے نکل کر کارکردگی کے جدید، ڈیٹا پر مبنی نظام کی جانب بڑھ رہی ہیں جہاں فیصلے اندازوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔پیر …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ مکتب کا آغاز پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی عزم، شفافیت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا واضح پیغام ہے، ملک کی جامعات اب کاغذی کارروائی سے نکل کر کارکردگی کے جدید، ڈیٹا پر مبنی نظام کی جانب بڑھ رہی ہیں جہاں فیصلے اندازوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔پیر کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے زیرِ انتظام ڈیجیٹل پلیٹ فارم مکتب کے اجرا کے موقع پر آن لائن خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں قوموں کی اصل طاقت مضبوط ادارے اور تربیت یافتہ انسانی وسائل ہوتے ہیں، جبکہ عالمی معیار کی جامعات صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ شفاف گورننس، مؤثر نظم و نسق اور احتساب سے بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومیں حادثاتی طور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور تسلسل سے ترقی کرتی ہیں ۔وفاقی وزیر نے علم، ٹیکنالوجی اور جدت کو پاکستان کی معاشی مضبوطی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ اڑان پاکستان‘‘ کے پانچوں ستونوں میں جدت اور مسابقت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے ماضی کی پالیسی سمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وژن 2010 میں انسانی وسائل کی ترقی کو قومی ترجیح بنایا گیا، 10 ہزار پی ایچ ڈی پروگرام کے ذریعے عالمی معیار کا ٹیلنٹ تیار کیا گیا اور وژن 2025 کے تحت جدید تحقیقی و انوویشن مراکز قائم کیے گئے۔احسن اقبال نے کہا کہ اب’’ اڑان پاکستان‘‘ کے تحت جامعات، تحقیق اور معیشت کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ تحقیق براہِ راست قومی پیداوار اور مسابقت میں اضافہ کرے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی ٹاپ 10 پریمیم جامعات کو عالمی مسابقت کے لیے تیار کیا جائے گا جبکہ پریمیم جامعات کے انتخاب اور اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ سات نکاتی یونیورسٹی کوالٹی فریم ورک کے ذریعے معیارِ تعلیم بہتر بنایا جا رہا ہے اور اعلیٰ تعلیم میں سرکاری فنڈنگ کو کارکردگی اور نتائج سے مشروط کیا جائے گا تاکہ مقابلہ، میرٹ اور شفافیت فروغ پائے۔ ان کے مطابق نئے مینوفیکچرنگ سینٹرز اور 12 کیٹاپلٹ طرز کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ’’کوانٹم ویلی پاکستان‘‘ تحقیق، ٹیکنالوجی اور انوویشن کا قومی مرکز بنے گی۔

وفاقی وزیر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ محض ڈگری دینے والے اداروں کے بجائے ہائی پرفارمنس نالج آرگنائزیشنز بنیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس ہی اعلیٰ تعلیم میں دیرپا اصلاحات کی بنیاد ہے اور مکتب اسی سمت ایک فیصلہ کن قدم ہے۔تقریب میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے حکام، وائس چانسلرز، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے شرکت کی اور مکتب کو اعلیٰ تعلیم کے نظم و نسق، ڈیٹا اینالیٹکس اور شفاف فیصلوں کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔

مزید خبریں