سپریم کورٹ نے سیشن ججز کے مقدمات منتقلی کے اختیارات سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظورکرلی

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے سیشن ججز کے مقدمات منتقلی کے اختیارات سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔ عدالت عظمیٰ نے سیشن جج قصور کی جانب سے مقدمہ منتقلی کا حکم بحال کر دیا۔کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے سیشن ججز کے مقدمات منتقلی کے اختیارات سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔ عدالت عظمیٰ نے سیشن جج قصور کی جانب سے مقدمہ منتقلی کا حکم بحال کر دیا۔کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا سیشن جج کو مقدمہ ٹرانسفر کرنے کا اختیار حاصل ہے؟وکیل مدعی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 526 کے تحت سیشن جج کو چارج فریم کرنے سے قبل مقدمہ منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ دفعہ 528 کے تحت فیصلہ سنانے سے پہلے بھی مقدمہ ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے سیشن جج کے فیصلے پر کچھ اعتراضات بھی اٹھائے۔وکیل مدعی کے مطابق مقدمہ 25 سے 30 کلومیٹر دور دوسرے مجسٹریٹ کو منتقل کیا گیا جہاں جانے والی سڑک انتہائی خستہ حالت میں ہے۔

انہوں نے یہ بھی موقف اپنایا کہ مقدمہ منتقل کرنے سے قبل دونوں فریقین کی رائے لینا ضروری تھا۔اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ اب کیا ہم اس مقدمے میں حکومت کو سڑک بنانے کا حکم دے دیں؟کیس کے پس منظر کے مطابق سیشن جج قصور نے ملزمان کی درخواست پر مقدمہ منتقل کیا تھا جس کے خلاف مدعی نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے سیشن جج کا حکم ختم کرتے ہوئے مقدمہ واپس بھجوانے کا حکم دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سیشن جج کا حکم بحال کر دیا۔

مزید خبریں