صدر فیصل آباد چیمبرکابرآمدات میں پائیدار بنیادوں پر اضافہ کیلئے زرعی اجناس کی فوری ویلیو ایڈیشن پر زور

فیصل آباد۔ 08 جنوری (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے برآمدات میں پائیدار بنیادوں پر اضافہ کیلئے زرعی اجناس کی فوری ویلیو ایڈیشن پر زور دیا ہے۔ ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 24فیصد ہے جبکہ ٹیکسٹائل اور شوگر کی صنعت کو خام مال مہیا کرنے …

فیصل آباد۔ 08 جنوری (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے برآمدات میں پائیدار بنیادوں پر اضافہ کیلئے زرعی اجناس کی فوری ویلیو ایڈیشن پر زور دیا ہے۔ ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 24فیصد ہے جبکہ ٹیکسٹائل اور شوگر کی صنعت کو خام مال مہیا کرنے کے علاوہ یہ شعبہ 42فیصد افراد کو براہ راست روزگار کی فراہمی کا بھی اہم ترین ذریعہ ہے۔ آلو کی پیداوار میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی کسانوں کو سستے داموں خام مال فروخت کرنے کی بجائے ویلیو ایڈیشن کے شعبہ میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نہ صرف جلد خراب ہونے والی سبزیوں اور آلو وغیرہ کی ویلیو ایڈیشن کی صنعت کو فروغ دے کر دیہی غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل آلو کی پیداوار بڑھ رہی ہے مگر ہمارے کسان زیادہ پیداوار سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ابھی تک اُن کے نرخ کم ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں

حالانکہ انہیں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے ذریعے دیہی سطح پر آلو خشک کر کے اُن کا آٹا بنانے کے یونٹ لگانے چاہئیں تاکہ نہ صرف ان کے برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے بلک اُن کی شیلف لائف کو بھی بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آلو کے آٹے کو کولڈ سٹور میں رکھنے کی بجائے تمام گھروں میں بھی سٹور کیا جا سکتا ہے اور حسب ضرورت اِن کو مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کر کے بھاری منافع بھی کمایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے کسانوں کو بھاری مقدار میں بلا سود قرضے دینے کی سہولت متعارف کرائی ہے جبکہ اپنا کاروبارسکیم کے تحت کسان اپنے چھوٹے یونٹ بھی لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے جہاں کسانوں کو بہت بڑی گھریلو مارکیٹ دستیاب ہو گی وہاں آلو کے آٹے سے مختلف قسم کی اشیاء بھی تیار کر کے برآمد کی جا سکیں گی۔ انہو ں نے کہا کہ جب تک کسانوں میں اپنی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کا شعور پیدا نہیں کیا جائے گا ا س وقت تک دیہی غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔