انڈر19مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2026 ،گروپ بی میں نوجوان ٹیلنٹ وماضی کے چیمپئنز کا دلچسپ امتزاج دیکھنے کو ملے گا

لاہور۔9جنوری (اے پی پی):آئی سی سی انڈر19 مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے گروپ بی میں نوجوان ٹیلنٹ،ماضی کے چیمپئنز اور ابھرتی ہوئی ٹیموں کا دلچسپ امتزاج دیکھنے کو ملے گا۔ پانچ مرتبہ کی چیمپئن بھارت،2020 کی فاتح بنگلہ دیش، سابق فائنلسٹ نیوزی لینڈ اور مسلسل دوسری بار ایونٹ میں جگہ بنانے والی امریکا کی ٹیم اس گروپ کو نہایت مسابقتی بناتی ہیں۔ زمبابوے کی کنڈیشنز میں ہونے والا یہ …

لاہور۔9جنوری (اے پی پی):آئی سی سی انڈر19 مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے گروپ بی میں نوجوان ٹیلنٹ،ماضی کے چیمپئنز اور ابھرتی ہوئی ٹیموں کا دلچسپ امتزاج دیکھنے کو ملے گا۔ پانچ مرتبہ کی چیمپئن بھارت،2020 کی فاتح بنگلہ دیش، سابق فائنلسٹ نیوزی لینڈ اور مسلسل دوسری بار ایونٹ میں جگہ بنانے والی امریکا کی ٹیم اس گروپ کو نہایت مسابقتی بناتی ہیں۔ زمبابوے کی کنڈیشنز میں ہونے والا یہ گروپ مرحلہ شائقین کے لیے سنسنی خیز مقابلوں کا وعدہ کرتا ہے۔بھارت اس ٹورنامنٹ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے جس نے اب تک 5 ٹائٹل جیتے اور گزشتہ 5 ایڈیشنز میں فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔ 2 سال قبل فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد اس بار بھارتی ٹیم ایک بار پھر مضبوط دعویدار کے طور پر میدان میں اترے گی۔

سب کی نظریں 14 سالہ باصلاحیت بلے باز ویبھو سوریاونشی پر ہوں گی جنہوں نے انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف یوتھ ون ڈے سیریز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 78 گیندوں پر 143 اور 31 گیندوں پر 86 رنز بنائے۔ ایشیا کپ انڈر 19 میں بھارت فائنل تک پہنچا تاہم پاکستان سے شکست ہوئی۔ اسی ٹورنامنٹ میں وکٹ کیپر بلے باز ابھیگیان کنڈو نے ملائیشیا کے خلاف ناقابلِ شکست ڈبل سنچری سکور کی جبکہ میڈیم پیسر دیپیش دیویندرن 15 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے۔

بنگلہ دیش نوجوان کرکٹ میں مسلسل ترقی کی علامت بن چکا ہے۔ 2016 میں تیسری پوزیشن اور 2020 میں تاریخی ٹائٹل جیتنے کے بعد اب وہ ایک مضبوط یونٹ کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ 2020 کی فاتح ٹیم کے کئی کھلاڑی اب سینئر سائیڈ کا مستقل حصہ ہیں جن میں محمود الحسن جوی، شوریف الاسلام اور توحید ہردوئے شامل ہیں۔ موجودہ سکواڈ ایشیا کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے بعد ورلڈ کپ میں شریک ہو رہا ہے، جہاں اوپنر زواد ابرار نے بیٹنگ میں جبکہ بائیں ہاتھ کے سپنر شریار احمد نے بولنگ میں متاثر کن کارکردگی دکھائی۔

نیوزی لینڈ، جو 1998 میں فائنل کھیل چکا ہے، اس کے بعد تین مرتبہ سیمی فائنل تک پہنچا، آخری بار 2020 میں، اس ایڈیشن میں اسے بنگلہ دیش سے شکست ہوئی تھی جبکہ بھارت نے بھی دو مواقع پر کیویز کا سفر ختم کیا۔ سابق نیوزی لینڈ بلے باز اینٹن ڈیویچ کی کوچنگ میں ٹیم ایک تجربہ کار سکواڈ کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ کپتان ٹام جونز نے اوٹاگو کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو پر سنچری سکور کی، جبکہ ناردرن ڈسٹرکٹس کے سنیہتھ ریڈی اور آریان مان بھی ٹیم کے اہم ستون سمجھے جا رہے ہیں۔امریکا کی انڈر 19 ٹیم نے امیریکاز کوالیفائر میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے تمام 6میچز آسانی سے جیت کر ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا۔

یہ ان کی مسلسل دوسری ورلڈ کپ میں شرکت ہے۔ امریندر گل کی سنچری نے برمودا کے خلاف فتح میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ ساہِر بھاٹیا نے ارجنٹائن کے خلاف 5 رنز دے کر 5وکٹیں حاصل کیں، جس کے نتیجے میں حریف ٹیم محض 34 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اگرچہ زمبابوے میں انہیں سخت امتحانات کا سامنا ہوگا، خاص طور پر افتتاحی میچ میں بھارت کے خلاف، مگر امریکی ٹیم اس چیلنج کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔گروپ بی کے میچز 15 جنوری سے شروع ہوں گے جہاں امریکا اور بھارت کوئنز سپورٹس کلب، بلاوایو میں آمنے سامنے ہوں گے۔

اس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کا بڑا مقابلہ 17 جنوری کو ہوگا۔ نیوزی لینڈ اور امریکا 18 جنوری کو مدمقابل آئیں گے، جبکہ بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ 20 جنوری کو کھیلیں گے۔ 23 جنوری کو بنگلہ دیش اور امریکا کا میچ ہرارے میں ہوگا اور گروپ مرحلے کا آخری مقابلہ 24 جنوری کو بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جائے گا۔ یہ گروپ یقینی طور پر نوجوان کرکٹ شائقین کے لیے یادگار لمحات لے کر آئے گا۔

 

مزید خبریں