وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم کی زیر صدارت اجلاس، اسلام آباد میں پیپر ملبری کے درختوں کی تعداد میں کمی کی مہم بارے بریفنگ دی گئی

اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت اسلام آباد کے ماحولیاتی تحفظ اور سبزہ کے تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے مطابق اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) محمد علی رندھاوا، …

اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت اسلام آباد کے ماحولیاتی تحفظ اور سبزہ کے تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے مطابق اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) محمد علی رندھاوا، سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ موریانہ کے علاوہ سی ڈی اے، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے)، اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی)، وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، وزارت صحت اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کو اسلام آباد میں غیر مقامی پیپر ملبری کے درختوں کی تعداد میں کمی کے لیے جاری مہم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ پیپر ملبریایک الرجی پیدا کرنے والی قسم ہے جو وفاقی دارالحکومت کے شہریوں میں شدید الرجی اور دمہ جیسے امراض کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مہم کے تحت ان علاقوں میں جہاں پیپر ملبری کے درختوں کی شرح 90 فیصد سے زائد ہے جن میں شکرپڑیاں، ایف-9 پارک اور ایچ-8 و ایچ-9 سیکٹرز سمیت دیگر علاقے شامل ہیں، وہاں ان درختوں کو مرحلہ وار ہٹا کر ان کی جگہ مقامی، پھل دار اور چیڑ کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد کے سبزہ کو محفوظ رکھنے کے لیے اس مہم کے تحت ہر ایک درخت کے بدلے مزید درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ شہر کا مجموعی سبزہ کم نہ ہو ۔شجرکاری کے منصوبوں میں بالغ مقامی درختوں کی تنصیب بھی شامل ہے تاکہ ماحولیاتی بحالی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

اجلاس میں آئندہ بہار کے موسم میں بروقت شجرکاری کو یقینی بنانے کے لیے ای پی اے، سی ڈی اے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مابین بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی غور کیا گیا جبکہ ماحولیاتی اور عوامی صحت کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے لیے مربوط منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر زور دیا گیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے متعلقہ وزارتوں، ای پی اے اور آئی ڈبلیو ایم بی جیسے ماحولیاتی تحفظ کے اداروں اور سی ڈی اے کے مابین طریقۂ کار کو موثر اور باہمی رابطے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اجازت ناموں اور لائسنسنگ سے متعلق قوانین اور قواعد کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک شفاف، واضح اور مربوط نظام وضع کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہ ہو۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے آئندہ اقدامات بالخصوص شجرکاری کے حوالے سے باہمی مشاورت اور قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔