اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کورنگی ہاربرفشریز اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر مشتمل 80 ملین ڈالر لاگت کے سی فوڈ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ زون کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا ہےجس کا مقصد بلیو اکانومی کو فروغ دینا اور عالمی سی فوڈ تجارت میں پاکستان کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔ہفتہ کو جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مجوزہ …
وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری کا کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں سی فوڈ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ زون کے قیام کے منصوبے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کورنگی ہاربرفشریز اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر مشتمل 80 ملین ڈالر لاگت کے سی فوڈ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ زون کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا ہےجس کا مقصد بلیو اکانومی کو فروغ دینا اور عالمی سی فوڈ تجارت میں پاکستان کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔ہفتہ کو جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت کورنگی ہاربرفشریز اتھارٹی میں جدید سی فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کمپلیکس کی ترقی، فنانسنگ اور آپریشن کیا جائے گا تاکہ ہاربر کو پائیدار اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سی فوڈ پروسیسنگ کے علاقائی مرکز کے طور پر عالمی منڈیوں سے جوڑا جا سکے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام درمیانے درجے کے سی فوڈ پروسیسرز اور ویلیو ایڈڈ پلانٹس کو جدید انفراسٹرکچر، سرٹیفیکیشن معیارات اور مؤثر برآمدی لاجسٹکس فراہم کر کے عالمی خریداروں سے جوڑے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ خام سی فوڈ کی برآمدات سے ہٹ کر زیادہ قدر رکھنے والی پروسیسڈ مصنوعات کی جانب حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق منصوبہ کراچی میں واقع کورنگی فشریز ہاربر میں 100 ایکڑ پر مشتمل خصوصی سی فوڈ پروسیسنگ اور برآمدی انفراسٹرکچر پر محیط ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی تخمینہ لاگت 60 سے 80 ملین ڈالر کے درمیان ہےجو ویتنام، چین اور ایکواڈور جیسے ممالک کے علاقائی بینچ مارکس پر مبنی ہے جہاں اسی نوعیت کے سی فوڈ پارکس قائم کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ سہولیات میں کثیر المستاجر (ملٹی ٹیننٹ) سی فوڈ پروسیسنگ یونٹس، بڑے پیمانے پر کولڈ اسٹوریج، پیکیجنگ سہولیات، لاجسٹکس اور برآمدی ٹرمینلز کے ساتھ ماحولیاتی تقاضوں کے مطابق ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ شامل ہوگا۔ زون کو صرف تجارتی سی فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ، کولڈ اسٹوریج اور برآمدی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا بلڈ آپریٹ ٹرانسفر کنسیشن ماڈل کے تحت تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت نجی سرمایہ کار پروسیسنگ زون کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کریں گے جبکہ کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی ریگولیٹری نگرانی اور سہولت کاری فراہم کرے گا۔ترقیاتی اجزاء کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ زون میں 20 سے 25 درمیانے اور بڑے پیمانے کے سی فوڈ پروسیسنگ یونٹس قائم کئے جائیں گےجو مچھلی، جھینگا اور سیفالوپوڈز کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدی معیار کی پیکیجنگ کے لیے ڈیزائن ہوں گے۔ ان یونٹس کے ذریعے بنیادی پروسیسنگ سے لے کر مارکیٹ کے لیے تیار سی فوڈ مصنوعات تک وسیع رینج تیار کی جا سکے گی۔انہوں نے کہا کہ منصوبے میں کولڈ اسٹوریج اور بلاسٹ فریزنگ کمپلیکس شامل ہوگاجس میں منفی 18 سے منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک مختلف درجہ حرارت پر ذخیرہ ممکن ہوگا تاکہ تازہ، پروسیسڈ اور غیر پروسیسڈ سی فوڈ کو محفوظ طریقے سے سنبھالا جا سکے۔
روزانہ 50 سے 100 ٹن پیداواری صلاحیت کے آئس پلانٹس اور فلیک آئس اسٹیشنز فِش لینڈنگ، پروسیسنگ اور نقل و حمل کی ضروریات پوری کریں گے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ فلٹنگ، میرینیٹڈ مصنوعات، بریڈیڈ سی فوڈ اور برآمدی سہولت فوڈز کے لیے مخصوص ویلیو ایڈیشن اور ریڈی ٹو ایٹ یونٹس قائم کیے جائیں گے جس سے پاکستانی برآمدکنندگان بیرونِ ملک پریمیم ریٹیل اور فوڈ سروس مارکیٹس تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیکیجنگ اور لیبلنگ یونٹس بین الاقوامی فوڈ سیفٹی اور کوالٹی معیارات، بشمول HACCP اور ISO سرٹیفیکیشن کے تحت کام کریں گے، جہاں ویکیوم پیکنگ، موڈیفائیڈ ایٹموسفیر پیکیجنگ اور ریٹیل ریڈی حل فراہم کیے جائیں گے۔سرمایہ کاری کے ڈھانچے سے متعلق جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ترجیحی ماڈل BOT کنسیشن ہےجس میں نجی شراکت دار فنانسنگ، ترقی اور آپریشن کرے گا جبکہ کنسیشن مدت کے اختتام پر ملکیت کورنگی ہاربرفشریز اتھارٹی کو منتقل ہو جائے گی۔ متبادل ماڈلز میں کورنگی ہاربرفشریز اتھارٹی اور نجی سی فوڈ برآمدکنندگان یا مینوفیکچررز کے درمیان ترقی اور آپریشن کی شراکتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آمدنی کے ذرائع میں لیز کرایہ، پروسیسنگ فیس، کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹکس خدمات، یوٹیلیٹیز کی فراہمی،برآمدی آمدنی میں شراکت اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات سے حاصل ہونے والا منافع شامل ہوگا۔ علاقائی سی فوڈ پارک منصوبوں کی بنیاد پر متوقع اندرونی شرحِ منافع 13 سے 17 فیصد کے درمیان ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق کنسیشن کی مدت 20 سال متوقع ہے جس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے جبکہ منصوبہ مکمل طور پر نجی شعبے کے ذریعے فنانس اور آپریٹ کیا جائے گا۔ کورنگی ہاربرفشریز اتھارٹی زمین، جیٹی تک رسائی اور ادارہ جاتی سہولت کاری فراہم کرے گا۔
منصوبے کی مجموعی اہمیت بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو خلیجی، مشرقی افریقی اور ایشیائی منڈیوں کے لیے ایک اہم بحری تجارتی اور سی فوڈ برآمدی مرکز کے طور پر پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدیدپروسیسنگ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن کے ذریعے سمندری وسائل کو پریمیم سی فوڈ مصنوعات میں تبدیل کر کے برآمدی ویلیو ایڈیشن ممکن ہو گی۔انہوں نے کہا کہ مربوط انفراسٹرکچر ایک مخصوص صنعتی زون میں عالمی معیار کی کولڈ چین اور پروسیسنگ ایکو سسٹم فراہم کرے گا، جبکہ ساحلی ماہی گیر برادریوں اور کوآپریٹوز کو مشترکہ مواقع اور صلاحیت سازی کے ذریعے بلیو گروتھ میں شامل کیا جائے گا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی نیشنل بلیو اکانومی پالیسی، وژن 2030 اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 14 (سمندر کے نیچے زندگی) سے مکمل ہم آہنگ ہے اور کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور علاقائی شپنگ روٹس سے اسٹریٹجک روابط سے فائدہ اٹھاتا ہے۔








