کراچی۔10جنوری (اے پی پی):خاتونِ اوّل،رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت دیاح رورو اِستی وِدیہ نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت میں بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے، موسمیاتی لچک، سماجی بہبود، پائیدار ترقی اور عوامی روابط کے فروغ پر توجہ مرکوز رہی۔خاتونِ اوّل نے سماٹرا …
خاتونِ اوّل، ممبر قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت دیاح رورو اِستی وِدیہ سے ملاقات

مزید خبریں
کراچی۔10جنوری (اے پی پی):خاتونِ اوّل،رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت دیاح رورو اِستی وِدیہ نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت میں بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے، موسمیاتی لچک، سماجی بہبود، پائیدار ترقی اور عوامی روابط کے فروغ پر توجہ مرکوز رہی۔خاتونِ اوّل نے سماٹرا میں حالیہ لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر دلی تعزیت کا اظہار کیا، متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ہفتہ کو ایوان صدر سے جاری ایک بیان کے مطابق انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ تعلقات میں گرمجوشی، اعتماد اور گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے نائب وزیر کے پاکستان سے آبائی روابط کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ذاتی نسبت دوطرفہ تعلقات کو ایک بامعنی اور علامتی جہت فراہم کرتی ہے۔2022 میں سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے خاتونِ اوّل نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت اور وژن میں حکومتِ سندھ نے اب تک دو ملین سے زائد سیلاب مزاحم اور موسمیاتی لحاظ سے لچکدار گھر تعمیر کیے ہیں، جو آفات کے بعد بحالی اور موافقت کے میدان میں ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان گھروں کی ملکیتی اسناد خواتین سربراہانِ خاندان کے نام منتقل کی گئی ہیں، جو سندھ میں خواتین کو بااختیار بنانے، معاشی تحفظ اور سماجی وقار کے فروغ کی ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

خاتونِ اوّل نے سندھ کے کامیاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کو بھی اجاگر کیا، جس کے ذریعے صوبائی حکومت نے صحت، تعلیم، قابلِ تجدید توانائی اور انفراسٹرکچر میں پائیدار اور قابلِ توسیع منصوبے مکمل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل سے خدمات کی فراہمی مضبوط ہوئی ہے اور طویل المدتی مالی و ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنایا گیا ہے۔علاقائی و عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے خاتونِ اوّل نے انڈونیشیا کے صدر پربوو سبیانتو کے غزہ بحران خصوصاً فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت کے اصولی اور مستقل مؤقف کو سراہا، انہوں نے غزہ کی تعمیرِ نو میں پاکستان کی حمایت اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا جس کا دارالحکومت القدس ہو۔
انہوں نے کہا کہ انسانی المیے کی سنگینی مسلسل عالمی توجہ، شہریوں کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی متقاضی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کو مشترکہ عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ کمزور طبقات شدید موسمی واقعات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کم آمدنی والے افراد کے لیے موسمیاتی مزاحم اور ماحول دوست رہائشی حل کی اہمیت پر زور دیا، جو آفات سے نمٹنے، بحالی اور طویل المدتی پائیداری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔انڈونیشیا کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے خاتونِ اوّل نے کہا کہ اعلیٰ قیادت میں خواتین کی مؤثر نمائندگی حوصلہ افزا ہے، اور انہوں نے صنفی مساوات اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات پر انڈونیشیا کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش ظاہر کی۔
انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت نے سندھ کے بڑے پیمانے پر موسمیاتی مزاحم ہاؤسنگ کے تجربے سے سیکھنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس شعبے میں منظم تعاون کے امکانات کو سراہا۔ انہوں نے پام آئل کے باغات، خوردنی تیل کی پیداوار اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے، نیز غذائی تحفظ اور ویلیو چین کی ترقی کے لیے ممکنہ شراکت داریوں میں انڈونیشیا کی دلچسپی سے بھی آگاہ کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا جائزہ بھی لیا گیا۔
خاتونِ اوّل نے صدر پربوو سبیانتو کے حالیہ دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کیا اور خواتین و بچوں کی غذائیت سے متعلق انڈونیشیا کے سماجی بہبود پروگراموں کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے فلیگ شپ اقدامات کے ذریعے اسی نوعیت کے اہداف پر عمل پیرا ہے۔دونوں فریقین نے باہمی مفاہمت، مسلسل مکالمے اور مشترکہ مفاد کے شعبوں میں عملی تعاون کے ذریعے پاکستان۔انڈونیشیا تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔








