کسی خودمختار ریاست کے لازمی حصے کو تسلیم کرنا کوئی سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی جارحیت ہے، اسرائیلی اقدام صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے، نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار

جدہ۔11جنوری (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ اور ’’صومالی لینڈ‘‘ کو اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی اور ناجائز طور پر تسلیم کیے جانے اور اسرائیلی وزیرِ خارجہ کے بلاجواز اور اشتعال انگیز دورہ صومالی لینڈ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خودمختار ریاست کے …

جدہ۔11جنوری (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ اور ’’صومالی لینڈ‘‘ کو اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی اور ناجائز طور پر تسلیم کیے جانے اور اسرائیلی وزیرِ خارجہ کے بلاجواز اور اشتعال انگیز دورہ صومالی لینڈ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خودمختار ریاست کے لازمی حصے کو تسلیم کرنا کوئی سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک سیاسی جارحیت ہے، اسرائیلی اقدام صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملہ ہے، بین الاقوامی برادری ایک آواز ہو کر صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو مسترد کرے،جموں و کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا میں تنازعہ کی بنیادی وجہ اور ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے،اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں اس تنازعہ کے منصفانہ، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے فوری اور مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

یہاں او آئی سی کے وزراء خارجہ کی کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سب سے پہلے میں جمہوریہ ترکیہ کا، بحیثیت چیئرمین او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز، مملکتِ سعودی عرب اور برادر وفاقی جمہوریہ صومالیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اسرائیل کے غیر قانونی اقدام یعنی نام نہاد ’’صومالی لینڈ‘‘ کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اقدام سے پیدا ہونے والے خطرات پر غور کے لیے او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز کا یہ غیر معمولی اجلاس بروقت منعقد کرنے کا اقدام کیا۔ مملکتِ سعودی عرب کی قیادت، خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود، ولی عہد اور وزیرِاعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود اور وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کی دانشمندانہ قیادت کے تحت او آئی سی اور امت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ان کی مسلسل حمایت پر بھی شکریہ ادا کرتا ہوں،ہم سیکرٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طہٰ اور ان کی ٹیم کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس ہنگامی اجلاس کی تیاری نہایت محنت اور مہارت سے کی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، ہم صومالیہ کے وفاقی جمہوریہ کے علاقے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی اور ناجائز طور پر تسلیم کیے جانے اور اس کے بعد اسرائیلی وزیرِ خارجہ کے بلاجواز اور نہایت اشتعال انگیز دورۂ صومالی لینڈ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس معاملے پر ہونے والی بریفنگ کے دوران بھی صومالیہ کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کی،ہم اس پیش رفت کو صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صومالی لینڈ کا علاقہ صومالیہ کا ایک لازمی، ناقابلِ تقسیم اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے،کسی بھی بیرونی فریق کو اس بنیادی حقیقت کو بدلنے کا نہ قانونی اختیار ہے اور نہ اخلاقی جواز،صومالیہ کے کسی بھی حصے کے بارے میں کسی ریاست یا بیرونی ادارے کی جانب سے کوئی بھی اقدام، بیان یا تسلیم کرنا کالعدم اور بے اثر سمجھا جانا چاہیے، جس کے کوئی سیاسی یا قانونی نتائج مرتب نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ریاست کے لازمی حصے کو تسلیم کرنا کوئی سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک سیاسی جارحیت ہے جو ایک خطرناک نظیر قائم کرتی ہے، جس سے افریقہ ، بحیرۂ احمر کے خطے اور اس سے آگے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے اس غیر قانونی اقدام کو دو ٹوک انداز میں مسترد کیا، جس کا اظہار جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کیا گیا۔

اس مشترکہ بیان میں ’’ریاستوں کے حصوں‘‘ کو تسلیم کرنے کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور اس اقدام کے افریقہ ، بحیرۂ احمر کے خطے اور مجموعی عالمی سلامتی پر سنگین اثرات کی نشاندہی کی گئی ، او آئی سی اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کی جانب سے اسرائیل کی اس غیر قانونی پیش قدمی کو سختی سے مسترد کرنا ناگزیر ہے تاکہ یہ گستاخانہ اقدام دیگر ممالک کے لیے مثال نہ بن سکے۔انہوں نے کہا کہ افریقہ کے خطے میں موجودہ تشویشناک صورتحال اس وقت مزید باعثِ فکر ہے جب صومالیہ اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی سمت میں حوصلہ افزا اور ٹھوس پیش رفت کا مظاہرہ کر رہا ہے، وفاقی جمہوریہ صومالیہ نے قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کی بحالی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں.

مالیاتی شعبے میں مثبت رجحانات، بالخصوص اقتصادی قوانین سازی کی کوششیں اور ایک فرد ایک ووٹ پر مبنی جامع انتخابات کی جانب پیش رفت، صومالی جمہوریت اور استحکام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم اقدامات ہیں،یہ کامیابیاں صومالی عوام کی ملکیتی اور قیادت میں چلنے والے سیاسی مفاہمت اور تعاون کے سفر کی عکاسی کرتی ہیں، اس مثبت پیشرفت کا تحفظ اور استحکام ضروری ہے نہ کہ ایسے اقدامات کے ذریعے اسے نقصان پہنچایا جائے جو ملک کو تقسیم کرنے اور حاصل شدہ پیش رفت کو سبوتاژ کرنے کا باعث بنیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان القاعدہ سے منسلک دہشت گرد تنظیم الشباب اور اس کے اتحادیوں کے مستقل خطرے کے مقابلے میں صومالی عوام اور ان کی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور استقامت کو تسلیم کرتا ہے۔

اسرائیل کی غیر ذمہ دارانہ حرکت خطے میں دہشت گردی کے خلاف علاقائی اور عالمی کوششوں کو کمزور کرتی ہے اور ایسے نازک حالات پیدا کرتی ہے جو انتہاپسند گروہوں کے لیے سازگار ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے علاقائی اور عالمی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کی اس اپیل سے مکمل اتفاق کرتا ہے کہ تمام ریاستیں اور ادارے صومالی لینڈ کے حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کے رسمی، نیم رسمی یا غیر رسمی روابط سے گریز کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی سطح پر ہونے والا رابطہ صومالیہ کی خودمختاری اور وحدت کا مکمل احترام کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق کسی بھی تجویز یا منصوبے اور صومالیہ کے وفاقی جمہوریہ کے علاقے صومالی لینڈ کو کسی ایسے غیر قانونی اقدام سے جوڑنے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔

فلسطینیوں کی نقل مکانی یا جبری آباد کاری کی حمایت کرنے والا کوئی بھی عمل نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے،ہم فلسطینی عوام کی حقِ خودارادیت کی جائز جدوجہد کے لیے اپنی پختہ حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ پائیدار امن اور استحکام کا واحد راستہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور ’’غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے‘‘ کے صفِ اول کے حامی کے طور پر پاکستان اس کے مؤثر نفاذ میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہےتاکہ جنگ بندی کو پائیدار بنایا جا سکے، غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو، فلسطینی عوام کو باوقار زندگی میسر آئے جنہوں نے طویل انسانی المیے کا سامنا کیا ہے اور فلسطینی حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کی جانب ایک معتبر راستہ ہموار ہو۔

سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان او آئی سی اور عرب شراکت داروں کے ساتھ مل کر فلسطینی حقِ خودارادیت، انصاف اور امن کے لیے عالمی حمایت کو متحرک کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ جنوبی ایشیا میں تنازعہ کی بنیادی وجہ اور ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں اس تنازعہ کے منصفانہ، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے فوری اور مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو،ہم او آئی سی کی جانب سے ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی مسلسل، مضبوط اور غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہیں تاہم او آئی سی پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان او آئی سی اور وسیع تر بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک آواز ہو کر صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو مسترد کریں۔ یہ اجلاس صومالیہ کے ساتھ ہماری اجتماعی یکجہتی کا واضح اظہار ہے، جو اس کی خودمختاری کے خلاف ایک غیر ذمہ دار فریق کی کھلی خلاف ورزی کے مقابلے میں سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

 

مزید خبریں