بلوچستان اسمبلی کا مائنز ایکسائز ڈیوٹی قانون آئینی دائرہ اختیار میں ہے،وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ذریعہ 2020 کے فنانس ایکٹ کے تحت 1967 کے ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز (لیبر ویلفیئر) ایکٹ میں ترمیم آئینی دائرہ اختیار میں ہے ۔ یہ فیصلہ وفاقی آ ئینی عدالت نے اٹک سیمنٹ پاکستان لمیٹڈ کی درخواست پر رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ میں دیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی …

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ذریعہ 2020 کے فنانس ایکٹ کے تحت 1967 کے ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز (لیبر ویلفیئر) ایکٹ میں ترمیم آئینی دائرہ اختیار میں ہے ۔ یہ فیصلہ وفاقی آ ئینی عدالت نے اٹک سیمنٹ پاکستان لمیٹڈ کی درخواست پر رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ میں دیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ذریعہ 2020 کے فنانس ایکٹ کے تحت 1967 کے ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز (لیبر ویلفیئر) ایکٹ میں ترمیم آئینی دائرہ اختیار میں ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ صوبائی قانون سازی اور وفاقی قانون کے درمیان تضاد کے معاملات میں ’’دوہری پہلو‘‘ (Double Aspect) اور ’’اصل اور جوہر‘‘ (Pith and Substance) کے اصولوں کے تحت معاملے کو دیکھا گیا اور اس میں کوئی آئینی خلاف ورزی نہیں پائی گئی۔اٹک سیمنٹ پاکستان لمیٹڈ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے 27 نومبر 2023 کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

کمپنی کا موقف تھا کہ بلوچستان اسمبلی نے 1967 کے وفاقی ایکٹ میں ترمیم کرنے کا آئینی اختیار نہیں رکھا اور 2020 کے فنانس ایکٹ کے تحت ڈیوٹی کی شرح بڑھانا وفاقی دائرہ اختیار میں آنے والے موضوعات میں دخل اندازی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ کمپنی بلوچستان کے علاقے حب میں واقع اپنی مینوفیکچرنگ فیکٹری میں سیمنٹ کی پیداوار کے لئے معدنیات کی کان کنی کرتی ہے اور صوبائی محکمہ لیبر ویلفیئر نے اسے اضافی ایکسائز ڈیوٹی کے نوٹس جاری کئے تھے۔

کمپنی نے تین الگ الگ درخواستیں دی تھیں تاکہ ڈیوٹی کی شرح میں ترمیم کی جائے لیکن سبھی مسترد ہو گئیں۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی قانون سازی کے دائرہ اختیار کی وضاحت2010 کے آئینی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات بڑھ گئے ہیں اور تمام وہ امور جو وفاقی فہرست میں نہیں ہیں، صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اگر کوئی قانون ایک پہلو سے وفاق کے دائرہ اختیار میں آئے لیکن اس کا دوسرا پہلو صوبائی مفاد میں ہو تو دونوں قوانین درست اور مؤثر رہ سکتے ہیں۔ 1967 کے ایکٹ کا مقصد کان کنی کرنے والے مزدوروں کی فلاح و بہبود ہے۔ عدالت نے کہا کہ صوبائی قانون سازی کا مقصد بھی اسی عوامی مفاد کو آگے بڑھانا تھا اور اس سے کسی بھی قانونی یا آئینی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

عدالت نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کا 2020 کا فنانس ایکٹ کے تحت 1967 ایکٹ میں ترمیم کرنا آئینی دائرہ اختیار کے اندر ہے۔ دونوں قوانین، وفاقی اور صوبائی، اپنی اپنی حیثیت میں درست ہیں اور عوامی مفاد میں ہیں لہذا درخواست گزار کا آئینی دائرہ اختیار کی خلاف ورزی کا موقف مسترد کیا جاتا ہے۔

 

مزید خبریں