اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ قومی بیانیے کے خلاف کسی بھی قسم کی گفتگو، ابہام یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ دہشت گردی کے معاملے پر ابہام دراصل دہشت گردوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے، دہشت گردوں کے لئے کسی بھی قسم کا نرم گوشہ یا رعایت پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے، سیاسی تحریکیں …
قومی بیانیے کے خلاف کسی بھی قسم کی گفتگو، ابہام یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ،وزیرمملکت طلال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ قومی بیانیے کے خلاف کسی بھی قسم کی گفتگو، ابہام یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ دہشت گردی کے معاملے پر ابہام دراصل دہشت گردوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے، دہشت گردوں کے لئے کسی بھی قسم کا نرم گوشہ یا رعایت پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے، سیاسی تحریکیں سو بار بھی چلائی جائیں مگر پاکستان کے استحکام اور قومی بیانیے کے خلاف کسی قسم کی بات یا عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب مزید کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ قومی سلامتی کے بنیادی مؤقف کو کمزور کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو دہشت گردوں سے ہمدردی ہے تو وہ افغانستان تشریف لے جائے لیکن پاکستان کے خلاف بیانیہ یا رویہ کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔
سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو ایک بالکل واضح کیس تھا اور اس میں سزا ہونی ہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے 1200 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں سے 60 سے 70 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آخر کتنی قربانیوں کے بعد غیرت جاگے گی اور دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھیجنے کے لئے تیار نہیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عملی اقدامات سے گریزاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے کئی اضلاع میں کاؤنٹر ٹیررازم فورس موجود نہیں، ایک بھی ضلع ایسا نہیں جہاں مکمل سیف سٹی منصوبہ فعال ہو جبکہ پشاور میں بھی سیف سٹی منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دانستہ طور پر فرانزک لیب قائم نہیں کی گئی اور انسداد دہشت گردی کے اداروں پر مطلوبہ وسائل خرچ نہیں کئے گئے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کہاں سے ہو رہی ہے، اس کے ٹھکانے کہاں ہیں اور کون انہیں سپورٹ کر رہا ہے، یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کے تربیتی کیمپ اور پناہ گاہیں موجود ہیں اور اس امر کی نشاندہی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دو درجن سے زائد ممالک کر چکے ہیں، اس کے باوجود اگر کوئی ابہام پیدا کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے۔
وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی پالیسی یہ رہی ہے کہ قومی بیانیے پر ابہام پیدا کیا جائے اور دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں پی ٹی آئی کے کسی اہم عہدیدار، وزیر یا مشیر پر کوئی حملہ نہیں ہوا جبکہ خیبر پختونخوا میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بولنے والی جماعتوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ ابہام پیدا کرنے والے عناصر خود محفوظ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ترجمان آج بھی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کرتے ہیں اور جہاں بھی جاتے ہیں قومی بیانیے کے خلاف پوزیشن لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دے گی جبکہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے لئے کسی بھی قسم کا نرم گوشہ یا رعایت پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے دونوں ہمسایوں میں سے ایک ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ دوسرا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، اس حقیقت کے باوجود ابہام پیدا کرنا ناقابل فہم ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ قومی سلامتی، سکیورٹی فورسز اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تحریکیں سو بار بھی چلائی جائیں مگر پاکستان کے استحکام اور قومی بیانیے کے خلاف کسی قسم کی بات یا عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ جو بھی قومی ریڈ لائنز کراس کرے گا اس کی سیاست ختم ہو جائے گی کیونکہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے والوں کے لئے اس ملک میں کوئی گنجائش نہیں۔








