اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بدعنوانی، سائبر کرائم، ڈیٹا سکیورٹی، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو ماہانہ 1.5کروڑ روپے کی بدعنوانی کے ایک کیس پر بریفنگ دی گئی جس میں ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اینٹی …
سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس، بدعنوانی، سائبر کرائم، ڈیٹا سکیورٹی، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بدعنوانی، سائبر کرائم، ڈیٹا سکیورٹی، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو ماہانہ 1.5کروڑ روپے کی بدعنوانی کے ایک کیس پر بریفنگ دی گئی جس میں ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اینٹی منی لانڈرنگ نے بتایا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گریڈ 16 سے 19 کے 13 افسران کو سزا سنائی جا چکی ہےجن میں سے تین حفاظتی ضمانت پر جبکہ دو کو گرفتاری کے بعد ضمانت دی گئی ہے۔ اب تک صرف 15 لاکھ روپے کی ریکوری ہو سکی ہے۔ چیئرپرسن نے کیس کو حتمی شکل دینے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹائم لائن طلب کی تاہم متعلقہ حکام کوئی واضح مدت بتانے میں ناکام رہے۔
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ گزشتہ برس 271 افسران کو سزائیں دی گئیں جو ادارے کی مجموعی نفری کا 5.8 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا اور بروقت تدارک کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کال سینٹرز بذات خود غیر قانونی نہیں تاہم کئی غیر رجسٹرڈ سینٹرز فراڈ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ غیر قانونی کال سینٹرز خفیہ طور پر کام کرتے ہیں جس کے باعث ان کی درست تعداد کا تعین مشکل ہے تاہم ایسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔نادرا کے حکام نے ڈیٹا سکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی۔ چیئرپرسن نے معزز شخصیات سے متعلق ڈیٹا لیکس کے معاملات پر نادرا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ نے بتایا کہ نادرا کے 80 فیصد سے زائد ڈیٹا کو جدید پروٹوکولز کے ذریعے محفوظ بنا دیا گیا ہے اور غیر ملکیوں کو ڈیٹابیس سے خارج کر دیا گیا ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے نادرا کے تیسرے فریق سے فرانزک آڈٹ کی سفارش کی جبکہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چیئرمین نادرا کو طلب کر کے ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق تازہ پیش رفت پر بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔کمزور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں خدمات بہتر بنانے کے لیے ضلعی سطح کے انٹرنیٹ لائسنس متعارف کرائے گئے ہیں جن کی فیس 3 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے عوام کے لیے سستے انٹرنیٹ کی دستیابی پر زور دیا۔
چیئرپرسن نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ بڑے شہروں اور ایک صوبے میں سیلولر سگنل کوریج سے متعلق رپورٹ پیش کی جائےخصوصاً پشاور موٹروے کے کچھ حصوں میں ناقص کوریج کو اجاگر کیا جائے۔ کمیٹی نے پی ٹی سی ایل کے بورڈ ممبران کی معاوضے پر بھی تشویش کا اظہار کیاجو فی بورڈ اجلاس 8ہزار ڈالر وصول کرتے ہیں۔ لاء ڈویژن کے نمائندے کو ہدایت دی گئی کہ سرکاری ملازمین یا معزز شخصیات کی جانب سے 10 لاکھ روپے سے زائد رقم نکالنے کی حد سے متعلق پالیسی پیش کی جائے۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) کے چیئرمین نے اپنے ادارے کے مینڈیٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے قومی ڈیجیٹل حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی ڈیٹا فرد کی ملکیت ہے اور بغیر رضامندی شیئر نہیں کیا جانا چاہیے جبکہ مصنوعی ذہانت کے لیے ضابطہ کاری اور نگرانی ناگزیر ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے قوم کے تحفظ کے لیے ضروری قانون سازی میں کمیٹی کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں سینیٹرز پرویز رشید، ندیم احمد بھٹو، سعدیہ عباسی، سید کاظم علی شاہ اور سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے شرکت کی۔








