حکومت صدرِ مملکت کی توثیق کے بغیر کوئی بھی آرڈیننس نوٹیفائی نہیں کرتی، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ حکومت صدرِ مملکت کی توثیق کے بغیر کوئی بھی آرڈیننس نوٹیفائی نہیں کرتی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیشل اکنامک زونز آرڈیننس پر پیدا ہونے والے تنازعہ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں ہمارے نوٹس میں ہیں تاہم آئینی طریقہ کار پر سختی …

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ حکومت صدرِ مملکت کی توثیق کے بغیر کوئی بھی آرڈیننس نوٹیفائی نہیں کرتی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیشل اکنامک زونز آرڈیننس پر پیدا ہونے والے تنازعہ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں ہمارے نوٹس میں ہیں تاہم آئینی طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ بات واضح ہے کہ جب تک صدر مملکت کسی آرڈیننس پر دستخط نہ کر دیں اسے باقاعدہ نافذ العمل نہیں مانا جاتا۔ انہوں نے اراکین سے گزارش کی کہ وہ حقائق اور حکومتی وضاحت کو مدنظر رکھیں۔

وزیرِ قانون کی وضاحت کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ پی پی پی کے سینئر رہنما نوید قمر نے موقف اپنایا کہ ایوان کی بنیادی ذمہ داری قانون سازی ہے لیکن پہلی بار ایک ایسا آرڈیننس سامنے آیا ہے جس کی منظوری صدرِ مملکت نے نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر دستخط نافذ کئے گئے قانون کی کوئی حیثیت نہیں، لہٰذا وہ ایسے ماحول میں ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

مزید خبریں