خواتین کی سیاست میں شمولیت پالیسی سازی میں ان کی ضروریات کو اجاگر کرنے، موجودہ حالات کو سمجھنے اور معاشرتی تبدیلی کے لئے مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، سینیٹر شیری رحمن

لندن۔12جنوری (اے پی پی):نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ خواتین کی سیاست میں شمولیت پالیسی سازی میں ان کی ضروریات کو اجاگر کرنے، موجودہ حالات کو سمجھنے اور معاشرتی تبدیلی کے لئے مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ پیر کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر شیری رحمان یوکے فورم آن کلچرل ڈپلومیسی سے خطاب کر رہی تھیں جہاں …

لندن۔12جنوری (اے پی پی):نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ خواتین کی سیاست میں شمولیت پالیسی سازی میں ان کی ضروریات کو اجاگر کرنے، موجودہ حالات کو سمجھنے اور معاشرتی تبدیلی کے لئے مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ پیر کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر شیری رحمان یوکے فورم آن کلچرل ڈپلومیسی سے خطاب کر رہی تھیں جہاں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین صرف 27.2 فیصد پارلیمانی نشستوں پر فائز ہیں اور محض 29 ممالک میں خواتین ریاست یا حکومت کی سربراہ ہیں جبکہ موجودہ رفتار کے مطابق صنفی مساوات کے حصول میں 130 سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی سیاسی شمولیت شمولیتی حکمرانی کو فروغ دیتی ہے اور کوویڈ -19 کے دوران خواتین قیادت والے ممالک میں بہتر فیصلوں کے باعث اموات کی شرح نمایاں طور پر کم رہی۔سینیٹر شیری رحمان نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ایک مثالی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بن کر کئی نسلوں کی خواتین کے لئے راستہ ہموار کیا اور 1995 میں بیجنگ میں خواتین کے حقوق کے تاریخی پلیٹ فارم پر دستخط کئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تنازعات میں اضافے اور بین الاقوامی تعاون میں کمی کے باعث انسانی حقوق اور پائیدار ترقی کے اہداف متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں خواتین کی پارلیمانی نمائندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ خواتین ارکان کی تعداد 17 فیصد ہے تاہم گزشتہ سال انہوں نے تقریباً 50 فیصد پارلیمانی کام انجام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2002 کے بعد خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے سے متعلق اہم قوانین متعارف کرائے گئے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے خواتین کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے جس سے وہ معاشی طور پر مستحکم ہو رہی ہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عالمی سطح پر خواتین پارلیمنٹیرینز کو ہراسانی اور آن لائن تشدد کا سامنا ہے تاہم خواتین کے خلاف نفرت اور تشدد کا مقابلہ اجتماعی آواز، حوصلے اور یکجہتی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مزید خبریں