سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ، بھارت کی آبی جارحیت کا مقصد ہمیں پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے،وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہے، بھارتی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے ،ماحولیاتی وموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلائو میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا …

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہے، بھارتی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے ،ماحولیاتی وموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلائو میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے یہ بات منگل کویہاں ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سکیورٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیرآبی وسائل میاں محمد معین وٹو بھی شریک تھے۔

وفاقی وزیرنے وزارت آبی وسائل کے تحت خصوصی ورکنگ گروپ قائم کرنے اور 51 دن میں قابل عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایاگیاکہ ہندوکش و ہمالیہ ریجن میں برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا اورسیاچن گلیشیئر سالانہ 50 سے 60 میٹر کی رفتار سے پگھل رہا ہے،ہمالیہ کے پہاڑوں میں برف پگھلنے کی شرح 30 میٹر سالانہ تک پہنچ گئی۔وزیر منصوبہ بندی نے پانی کی پالیسیوں کو عملی منصوبوں میں بدلنے کے لیے فوری ٹیکنیکل ورکشاپ بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے گلیشیئرز کے پگھلائو میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور1960 سے اب تک گلیشیئرز کی 23 فیصد برف پگھل کر ضائع ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو پانی کے سنگین اور طویل المدتی بحران کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے،بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے،دریاؤں کے بہاؤ میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہاکہ پانی کا تحفظ ہی غذائی سلامتی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان نیشنل واٹر پالیسی پر ہم آہنگی ہر صورت مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہاکہ واٹر سکیورٹی صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ ملکی بقا اور خودمختاری کی بنیاد ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہاکہ ٹاسک فورس صرف مسائل کی تشخیص نہ کرے بلکہ فوری حل بھی پیش کرے، پاکستان کا 80 فیصد پانی دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے، آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث پاکستان کو شدید آبی قلت کا سامنا ہے،بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں واٹر مینجمنٹ کے مالیاتی ماڈل کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دریاؤں کو آلودہ کر کے قیمتی میٹھا پانی ضائع ہو کر سمندر میں جا رہا ہے، فائیو ایز میں ایک ای پانی کے تحفظ کا احاطہ کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ یونیورسٹیاں اور آبی ماہرین مل کر آبی تحفظ پر منصوبہ سازی کریں، ٹا سک فورس پاکستان کو درپیش چیلنجز کے مؤثر حل تجویز کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پاکستان میں پانی کے ذخائر بڑھانے میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

وفاقی وزیرنے کہاکہ چیئرمین واپڈا، ارسا، نیشنل فلڈ کمیشن اور تمام صوبے ورکنگ گروپ کو اپنی ماہرانہ تجاویز فراہم کریں۔ انہوں نے نے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ٹائم ٹیبل مقررکرنے اور عملی و قابلِ عمل حل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ آبی چیلنجز اور خطرات کا تدارک ترجیحی بنیاد پر کیا جائے گا۔\932

 

مزید خبریں