راولپنڈی۔13جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ثقافت و قومی ورثہ اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ تاریخی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال، راولپنڈی کو قومی ورثہ قرار دے دیا گیا ہے اور اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن فروری کے اختتام تک ایک تقریب کے ذریعے جاری کیا جائے گا ۔ وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار کالج میں طلبہ کونسل کے نو منتخب ارکان کی حلف برداری …
تاریخی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال، راولپنڈی کو قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے ، وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی

مزید خبریں
راولپنڈی۔13جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ثقافت و قومی ورثہ اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ تاریخی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال، راولپنڈی کو قومی ورثہ قرار دے دیا گیا ہے اور اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن فروری کے اختتام تک ایک تقریب کے ذریعے جاری کیا جائے گا ۔ وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار کالج میں طلبہ کونسل کے نو منتخب ارکان کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ محض اینٹوں اور سیمنٹ کی عمارت نہیں بلکہ علم، شعور، کردار سازی اور قومی تاریخ کی جیتی جاگتی علامت ہے۔ انہوں نے نو منتخب طلبہ کونسل کے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا حلف ذمہ داری، دیانت، قیادت اور قومی خدمت کے سفر کا آغاز ہے۔
اورنگزیب خان کھچی نے زور دیا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگریوں کا حصول نہیں بلکہ کردار سازی ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔انہوں نے کالج کی صدی پر محیط تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال نے ایسے دانشور اور ماہرین پیدا کیے جنہوں نے پاکستان کے تعلیمی، فکری اور انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کالج کی راہداریاں تاریخ کی خوشبو سے معطر ہیں اور اس کی دیواریں ان اساتذہ اور طلبہ کی گواہ ہیں جنہوں نے علم کو نظم و ضبط اور خدمت میں ڈھالا۔ وفاقی وزیر نے کالج انتظامیہ اور اساتذہ کی خاموش مگر کلیدی خدمات کو بھی سراہا۔طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان لڑکے قوم کی امید اور نوجوان لڑکیاں قوم کا اعتماد ہیں اور ملک کا مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہے۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان تحریک کے دوران طلبہ کو دیے گئے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ یکسوئی کے ساتھ تعلیم مکمل کریں اور ملکی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔وفاقی وزیر نے برین ڈرین سے متعلق منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلبہ کو بیرون ملک مواقع میسر آئیں تو وہ پاکستان کے سفیر بن کر ملک کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوان آبادی سے مالا مال ہے اور بیرون ملک مواقع سے فائدہ اٹھا کر قومی فخر بننا چاہیے۔دریں اثناء انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں معرکۂ حق کے دوران مسلح افواج کی تاریخی کامیابی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے اور ملک کا وقار نمایاں طور پر بڑھا ہے۔
انہوں نے اس کامیابی کا سہرا مسلح افواج اور قومی کوششوں کو دیا۔وفاقی وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ کالج ان کے زیر انتظام اداروں، جن میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس، لوک ورثہ اور پاکستان اکادمی ادبیات شامل ہیں، کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرے گا، جس کے تحت طلبہ کو ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے اسٹیجز، ہالز اور دیگر سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔اس سے قبل کالج کے پرنسپل تنویر احمد عباس کھچی اور طلبہ کونسل کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ نذیر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثارِ قدیمہ عرفان اللہ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر وقاص سلیم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں اساتذہ، طلبہ اور کالج انتظامیہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔








