موسمیاتی تبدیلی کے باوجود دنیا اس مسئلے پر بے حس، کم ترقی یافتہ ممالک پر ترقی یافتہ ممالک کی غیر ذمہ دارانہ ترقی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باوجود عالمی سطح پر اس مسئلے بارے بے حسی پائی جاتی ہے، کم ترقی یافتہ ممالک پر ترقی یافتہ ممالک کی غیر ذمہ دارانہ ترقی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے …

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باوجود عالمی سطح پر اس مسئلے بارے بے حسی پائی جاتی ہے، کم ترقی یافتہ ممالک پر ترقی یافتہ ممالک کی غیر ذمہ دارانہ ترقی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو موثر مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کریں، موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کی فوری تجدید اور اصلاح کی ضرورت ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے دنیا کے 10 بڑے ممالک میں شامل ہے، گرین ہائوسز گیسز کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی آفات کے باعث ترقیاتی وسائل بار بار بحالی پر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے موسمیاتی/ماحولیاتی تبدیلی کو جانچنے کےلئے مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کے دوران کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے دنیا کے 10 بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین ہائوسز گیسوں کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی آفات کے باعث ترقیاتی وسائل بار بار بحالی پر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سال 2022ء کے تباہ کن سیلاب سے پاکستان کو تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سیلاب نے غریب اور پسماندہ علاقوں میں غربت، غذائی قلت اور مسائل میں مزید اضافہ کیا۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ 2025ء میں آنے والے بڑے سیلاب نے پنجاب کے مختلف علاقوں کو شدید متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کو موسمیاتی اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے نئی پراجیکٹ گائیڈ لائنز تیار کی جا رہی ہیں۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ شدید گرمی کی لہر اور موسمی شدت اب پاکستان کے لیے نیا معمول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باوجود عالمی سطح پر اس مسئلے پر بے حسی پائی جاتی ہے، کم ترقی یافتہ ممالک پر ترقی یافتہ ممالک کی غیر ذمہ دارانہ ترقی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو موثر مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کی فوری تجدید اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ یہ ورکشاپ پالیسی سے عملدرآمد کی جانب اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں معاشی اور تکنیکی جانچ کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، پی ایس ڈی پی میں موسمیاتی لچک کو شامل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے نظام میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ماحولیات اڑان پاکستان کے فائیو ایز کا بنیادی ستون ہے۔

مزید خبریں