طارق انجم اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):آج کے تعمیراتی ماحول میں جہاں ہائوسنگ، انفراسٹرکچر اور شہری ترقی میں حکومتی معاونت اور عوامی سرمایہ کاری کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے ، ایسے تناظر میں فن تعمیرات کی کامیابی کا اندازہ ڈیزائن کی خوبصورتی سے نہیں بلکہ عملی طورپر مکمل ہونے کی صلاحیت سے کیا جاتا ہے ۔واضح نقشہ ، حقیقت پسندانہ ترتیب، لاگت سے متعلق معلومات اور اسٹیک ہولڈرز کے …
عمارتی ڈیزائن کے لیے فنِ تعمیرات کی تربیت کے ساتھ پراجیکٹ کنٹرولز ضروری ہیں ۔ رافیہ لاکھانی

مزید خبریں
طارق انجم
اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):آج کے تعمیراتی ماحول میں جہاں ہائوسنگ، انفراسٹرکچر اور شہری ترقی میں حکومتی معاونت اور عوامی سرمایہ کاری کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے ، ایسے تناظر میں فن تعمیرات کی کامیابی کا اندازہ ڈیزائن کی خوبصورتی سے نہیں بلکہ عملی طورپر مکمل ہونے کی صلاحیت سے کیا جاتا ہے ۔واضح نقشہ ، حقیقت پسندانہ ترتیب، لاگت سے متعلق معلومات اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اب اچھے ڈیزائن کے اہم عوامل بن چکے ہیں۔
کنسٹرکشن ڈیزائن اینڈ پراجیکٹ مینجمنٹ کی ماہر رافیہ لاکھانی نے بھی اپنی ابتدائی پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد اسی تصورپر رکھی جہاں وہ فن تعمیرات کی تربیت کو کنسٹرکشن پراجیکٹ مینجمنٹ کے نظم و ضبط کے ساتھ منسلک کرکے ڈیزائن کو زیادہ قابلِ تعمیر اور موثر بناتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ موثر شراکت کے بغیر تعمیراتی شعبہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار اورعوامی مفاد کے تحفظ کے لیے نگرانی، منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری ضروری ہے۔ جب پراجیکٹس میں شفافیت، مناسب بجٹ اور تکنیکی معاونت فراہم ہو تو نہ صرف تعمیراتی معیار بہتر ہوتا ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور شہری زندگی بھی مستحکم ہوتی ہے۔
جیسے جیسے عالمی تعمیراتی مارکیٹ تیز رفتار ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے ڈیزائن اور پراجیکٹ مینجمنٹ کا یہ امتزاج مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔اے پی پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں رافیہ لاکھانی کا کہنا ہے کہ عملی، جدید تعمیراتی شناخت میں ساکھ بڑے دعووں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت سے بنتی ہے اور جہاں ڈیزائن کا مقصد صرف تصور نہیں بلکہ منظم اور قابلِ عمل ڈیلیوری ہوتا ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے بیچلر آف آرکیٹیکچر اور ایڈنبرا کی ہیریٹ واٹ یونیورسٹی سے کنسٹرکشن پراجیکٹ مینجمنٹ میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے نئے اور تخلیقی ڈیزائن کا تصورپیش کرنے اور پھر اسے عملی شکل دینے کا سفر شروع کیا۔ ان کی پہچان کنسٹرکشن ڈیزائن اینڈ مینجمنٹ کے ماہر کی حیثیت سے ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈیزائن کے اصولوں، اجزا اور تعمیراتی تکنیکوں، پیشہ ورانہ اخلاقیات ، کمیونٹیز، سماجی و اقتصادی حالات اور جدید شہروں کی بدلتی ضروریات سے گہری سمجھ بوجھ لازمی ہے ۔عام طور پر منصوبوں میں مسائل خراب ڈیزائن کی وجہ سے نہیں ہوتے۔ زیادہ تر مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ڈیزائن کو عملی اقدامات میں نہیں بدلا جاتا۔پیشہ ورانہ تجربے کے دوران انہوں نے تعمیراتی جگہوں کا دورہ کیا، سروے کئے اورکلائنٹس کے ساتھ ملاقات کی جس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ صارف کی ضرورت کو کیسے عملی جامہ پہنایا جائے اور زمینی حقائق سامنے آنے پر ان میں کس طرح بہتری لائی جائے۔
انہوں نے رہائشی منصوبوں میں فن تعمیرات اور ایم ای پی ڈرائنگز سے عملی واقفیت بھی حاصل کی اور یہ سمجھا کہ یہ تکنیکی منصوبے کام کے دوران آخری لمحات میں غیر متوقع مسائل سے بچانے میں کس طرح مدد دیتے ہیں۔ ان کا کام نتائج پرمبنی ڈیزائن کی عکاسی کرتا ہے ۔انہوں نے ڈیزائن کی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور کلائنٹ کی منظوری کے لیے میٹریل بورڈ تیار کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ کام میں بہتر ہم آہنگی اور آرکیٹیکچر و ایم ای پی ٹیموں کے درمیان ڈیزائن کوآرڈینیشن موثر بنانے کیلئے معاہدے کی دستاویزات کا جائزہ اور کلائنٹ کے ساتھ بات چیت ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاہدوں اور تبدیلی کے انتظام، قیمت کا تعین ، رسک مینجمنٹ اور پروجیکٹس میں مالیاتی انتظام کے بنیادی اصول بشمول کیش فلو کے تصورات کی اپنی سمجھ کو مزید پختہ کیا۔ ان کا آخری پراجیکٹ ابو ظہبی کی میٹرو لائن کے کیس اسٹڈی پر مبنی تھا جہاں انہوں نے سسٹین ایبلٹی اور ڈیزائن کنسلٹنٹ کے طور پر کردار ادا کیا۔ اس تجربے نے واضح کیا کہ بڑے منصوبے صرف تکنیکی مہارت سے نہیں بلکہ منظم فیصلہ سازی، مضبوط دستاویزات اور ٹیموں کے درمیان مضبوط روابط سے کامیاب ہوتے ہیں۔
انہوں نے تحقیق کے ذریعے حقیقی منصوبوں کے نتائج کا بھی جائزہ لیا جس میں ایڈنبرا ٹرام کے ٹائم لائن کا تجزیہ شامل تھا اور اسے اسٹریٹجک، قدر اور خطرے کے نقطہ نظر سے سمجھا۔ اس کے علاوہ رافیہ لاکھانی نے ایک تحقیقی مقالے کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیا کس طرح مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ تعمیراتی ورک فلو کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ اب وہ کم لاگت رہائش، ان کی ضروریات ، ڈیزائن اور فائدہ پر مبنی لاگت کے تجزیے پر کام کر رہی ہیں جو ان کے نزدیک صنعت کے اس رخ سے ہم آہنگ ہے جہاں ڈیٹا پر مبنی تعمیرات ، پیشہ ورانہ ڈیزائن، کنٹرولز اور سسٹمز کے انضمام سے اخراجات کم کرنے اور کام کی معیار کو بہتر بنانے معاون ہوںگی۔
ان کے کام کا مرکزی اصول وضاحت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ڈیزائن بنانے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو صرف پیش کرنے میں آسان نہ ہوں بلکہ تعمیر کرنا بھی آسان ہوں۔ ان کے نزدیک نظم وضبط کا تعلق اعتماد سے ہے۔ جب تبدیلیاں آتی ہیں اور یہ ہمیشہ آتی ہیں، انہیں جلد ریکارڈ کرنا دونوں یعنی ٹائم لائن اور کاروباری تعلقات کو محفوظ رکھنے کا حصہ ہے۔








