سی ڈی ڈبلیو پی نے ’اڑان پاکستان‘ کے تحت پانچ بڑے صحت منصوبوں کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق پانچ منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ یہ تمام اقدامات اڑان پاکستان کے سوشل سیکٹر ایجنڈے کا حصہ ہیں جن کا مقصد عوام دوست ترقی، سستی اور معیاری …

اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق پانچ منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ یہ تمام اقدامات اڑان پاکستان کے سوشل سیکٹر ایجنڈے کا حصہ ہیں جن کا مقصد عوام دوست ترقی، سستی اور معیاری علاج تک رسائی، علاج پر اٹھنے والے بھاری اخراجات میں کمی اور کمزور طبقات کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضابطہ و ہم آہنگی مصطفیٰ کمال نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اپنی وزارت کے منصوبوں کی وضاحت اور حمایت کی۔اجلاس میں مجموعی طور پر صحت کے پانچ منصوبوں پر غور کیا گیا۔ تین منصوبے 12.524 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیے گئے جبکہ 56.823 ارب روپے کے دو بڑے منصوبے مزید غور کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھجوا دیئے گئے۔

صحت سہولت پروگرام (نظرثانی شدہ) 40,188.216 ملین روپے سی ڈی ڈبلیو پی نے صحت کے شعبے کے ایک کلیدی نظرثانی شدہ منصوبے ’’صحت سہولت پروگرام‘‘ کی منظوری دے کر حتمی فیصلے کے لیے ایکنک کو سفارش کر دی۔ یہ منصوبہ اڑان پاکستان سوشل سیکٹر انیشی ایٹو کا بنیادی ستون ہے جس کا مقصد بالخصوص غریب، کمزور اور محروم طبقات کو معیاری علاج تک مساوی رسائی دینا ہے۔

نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت یہ پروگرام اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقیاتی بجٹ کے ذریعے یونیورسل بنیاد پر نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ ثانوی اور ترجیحی اندرونِ خانہ علاج کی کوریج بڑھا کر مجموعی صحت کے نتائج بہتر بنائے جائیں۔یہ پروگرام سوشل ہیلتھ پروٹیکشن انیشی ایٹو کے تحت چلایا جا رہا ہے جس کے ذریعے نادرا ریکارڈ کے مطابق مستقل رہائشی خاندانوں کو اندرونِ خانہ علاج کے لیے ہیلتھ انشورنس فراہم کی جاتی ہے۔

اس کا اہم ہدف ہسپتال میں داخلے سے متعلق جیب سے ادا ہونے والے بھاری اخراجات میں 60 فیصد تک کمی لانا ہے۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ یہ پروگرام اڑان پاکستان کے وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے جو انسانی ترقی، سماجی تحفظ اور جامع معاشی نمو کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیتا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ اس سکیم کا آغاز 2015ء میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کے نام سے کیا تھا جس کا مقصد مستحق خاندانوں کو سو فیصد صحت کوریج فراہم کرنا تھا۔

بعد ازاں نام اور دائرہ کار میں توسیع کے باعث وسائل کے غلط استعمال اور اصل مستحقین کی رسائی متاثر ہوئی۔اسی تناظر میں وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ پروگرام کو اس کے اصل نام اور روح کے مطابق بحال کیا جائے تاکہ عوامی وسائل کمزور طبقات کے تحفظ پر مرکوز رہیں۔

جناح ہسپتال (پولی کلینک PGMI-II)، اسلام آباد 15,948.070 ملین روپے ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے جناح ہسپتال (پولی کلینک PGMI-II) G-11/3، اسلام آباد کے نظرثانی شدہ منصوبے کی منظوری دے کر ایکنک کو سفارش کر دی۔ یہ منصوبہ بھی اڑان پاکستان کے تحت عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور مساوی علاج تک رسائی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

نظرثانی کے تحت بستروں کی تعداد 311 سے بڑھا کر 400 کر دی گئی ہے۔ منصوبے میں جدید آئی ٹی سسٹمز، عمارت و بیرونی ترقیاتی کام، بایومیڈیکل آلات اور فرنیچر میں نمایاں اضافہ، لاگت میں رد و بدل (بشمول جی ایس ٹی)، سولر پاور سسٹمز، ایچ وی اے سی کی آپریشن و مینٹیننس اور رسک میٹیگیشن اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ تکمیل کی مدت جون 2027ء تک بڑھائی گئی ہے۔

چیئرمین سی ڈی ڈبلیو پی نے لاگت میں نمایاں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی سی ون مرحلے پر حقیقت پسندانہ اور شواہد پر مبنی لاگت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کے اندر مسجد کی تعمیر بھی شامل کی جائے تاکہ بنیادی سہولیات آغاز ہی سے مہیا ہوں۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سرکاری صحت منصوبے تکمیل کے فوراً بعد فعال اور آپریشنل ہونے چاہئیں کیونکہ تاخیر سے غریب طبقے کو فوری فائدہ نہیں پہنچتا۔

دیگر منظور شدہ صحت منصوبےانٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم (آئی ڈی ایس آر ایس)، پبلک ہیلتھ لیبارٹریز نیٹ ورک (پی ایچ ایل این) اور ایف ای ایل ٹی پی کی ورک فورس ڈولپمنٹ 7,484.251 ملین روپے ۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ یہ اس منصوبے کی آخری نظرثانی ہے، آئندہ کوئی ترمیم قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

پوائنٹس آف انٹری اور بارڈر ہیلتھ سروسز کی مضبوطی (کراچی) 2,864.98ملین روپے ،فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک (PGMI) اسلام آباد میں کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر شعبہ جات کی اپ گریڈیشن . 2,174.930 ملین روپے ہیں۔ان پانچوں منصوبوں کی منظوری اور سفارشات اس امر کی عکاس ہیں کہ حکومت پاکستان اڑان پاکستان کے تحت عوامی فلاح، سماجی تحفظ اور انسانی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ ہر شہری کو معیاری اور قابل استطاعت علاج تک رسائی حاصل ہو اور کوئی بھی شہری صحت کی بنیادی سہولت سے محروم نہ رہے۔