اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان اورعالمی بینک نے مجوزہ مداخلتوں کے دائرہ کار کو محدودو مؤثربنانے، ترجیحات میں مزیدبہتری اور مستقبل کے عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں کوکنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تکنیکی سطح کے رابطے جاری رکھنے پراتفاق کیاہے۔ یہ بات وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر …
وزیرخزانہ محمداورنگزیب سے عالمی بینک کے وفد کی ملاقات،منصوبوں کو سی پی ایف اوراصلاحات کے ایجنڈے سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تکنیکی سطح کے رابطے جاری رکھنے پراتفاق
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):پاکستان اورعالمی بینک نے مجوزہ مداخلتوں کے دائرہ کار کو محدودو مؤثربنانے، ترجیحات میں مزیدبہتری اور مستقبل کے عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں کوکنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تکنیکی سطح کے رابطے جاری رکھنے پراتفاق کیاہے۔ یہ بات وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما اَمگابازر کی قیادت میں عالمی بینک کی متعلقہ ٹیموں کے درمیان ملاقات میں ہوئی۔
ملاقات کا مقصد پاکستان کے ساتھ عالمی بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لینا اور ترجیحی شعبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ ملاقات کے دوران عالمی بینک کی ٹیم نے وزیرِ خزانہ کو کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت جاری آپریشنز اور منصوبوں میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا جن میں مالیاتی اور محصولات سے متعلق اصلاحات، معاشی استحکام کے لئے کی جانے والی کوششیں اور پالیسی پر مبنی شراکت داریوں میں حالیہ پیشرفت شامل تھی۔
فریقین نے اس امر کا اعتراف کیا کہ پاکستان نے محتاط مالیاتی اور زرِ مبادلہ کی پالیسیوں کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب پیشرفت کی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس استحکام کو پائیدار معاشی ترقی، زیادہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کی تخلیق میں تبدیل کرنا نہایت ضروری ہے۔ عالمی بینک نے نجی سرمایہ کاری میں تیزی لانے کی اہمیت پر زور دیا اور نشاندہی کی کہ سرمایہ کاری کی موجودہ سطحیں کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے مقررہ ہدف سے کم ہیں،گفتگو کا محور ایک جامع اور مربوط سرمایہ کاری فریم ورک کی تشکیل تھا جو کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو اور جس میں کاروباری ماحول و سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات، تجارتی سہولت کاری، کیپٹل مارکیٹ کی ترقی اور برآمدی مسابقت جیسے شعبے شامل ہوں۔
عالمی بینک نے واضح پالیسی سنگِ میل، کارکردگی کے اشاریے اور عملدرآمد میں معاونت کے لئے ہدفی تکنیکی مدد پرمشتمل نتائج پر مبنی طریقہ کار کی تجویز دی۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پہلے ہی جاری ہیں جن میں ٹیرف کی معقول تنظیم نو، سرکاری اداروں کے نظم و نسق میں بہتری، ضابطہ جاتی نظام کی جدید کاری اور شفافیت کے فروغ کیلئے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کیپٹل مارکیٹس کو وسعت دینے، طویل المدتی مالی وسائل تک رسائی بڑھانے، اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لئے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ملاقات میں روزگار اور مہارتوں کی ترقی کو معاشی نمو کا ایک کلیدی ستون قرار دیتے ہوئے اس پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پیشہ وارانہ اور تکنیکی تربیت، عوامی و نجی شعبے کے درمیان قریبی اشتراک اور بالخصوص آئی ٹی، صحت، نرسنگ، مہمان نوازی اور تعمیرات جیسے شعبوں میں مہارتوں کی ترقی کو ملکی اور بیرونِ ملک لیبر مارکیٹ کی طلب کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عالمی بینک نے لیبر موبیلٹی، مہارتوں کے ملاپ اور ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ پلیٹ فارمز سے متعلق اپنے جاری کام سے آگاہ کیا جن کا مقصد افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔
ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات، زراعت اور ایگری بزنس، معدنیات اور کان کنی، صحت، اور منتخب مینوفیکچرنگ شعبوں کو بھی آئندہ عالمی بینک کی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کے لئے ممکنہ ترجیحی شعبوں کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت ہدفی شعبہ جاتی مداخلتیں اعلیٰ اثرات کے حامل روزگار اور برآمدی ترقی کو فروغ دے سکتی ہیں۔عالمی بینک نے وزیرِ خزانہ کو مستقبل کے ممکنہ منصوبوں کے تحت پالیسی پر مبنی ضمانتوں کے استعمال سے بھی آگاہ کیا جن کا مقصد پاکستان کے ذمہ واجبات کے بہتر انتظام، مہنگے قرضوں کی ری فنانسنگ، اور جدید مالیاتی طریقہ کار کو فروغ دینا ہے تاہم یہ سب طے شدہ پالیسی اہداف کے حصول سے مشروط ہوگا۔
موسمیاتی مالیات، ضابطہ جاتی عمل میں آسانی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی پر بھی ترقیاتی مالیات اور اصلاحاتی عملدرآمد کے وسیع تر تناظر میں گفتگو کی گئی۔ فریقین نے مجوزہ مداخلتوں کے دائرہ کار کو محدودو مؤثربنانے، ترجیحات میں مزیدبہتری اور مستقبل کے عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں کوکنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اوراقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تکنیکی سطح کے رابطے جاری رکھنے پراتفاق کیا۔









