اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):سٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کوادائیگیوں کے نظام راست استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جمعرات کویہاں جاری بیان کے مطابق جدید، جامع اور شمولیتی ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے نظام کی تشکیل سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سٹریٹجک پلان 2023–2028 کا اہم مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان مسلسل ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط …
سٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو راست استعمال کرنے کی اجازت دیدی
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):سٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کوادائیگیوں کے نظام راست استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جمعرات کویہاں جاری بیان کے مطابق جدید، جامع اور شمولیتی ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے نظام کی تشکیل سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سٹریٹجک پلان 2023–2028 کا اہم مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان مسلسل ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہا ہے، جدت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور ضابطہ جاتی فریم ورک کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے تاکہ محفوظ، باہم مربوط اور صارف مرکوز حل کے ذریعے سرحد پار رقوم کی ترسیلات کو سہل بنایا جا سکے۔
اسی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اب ایکسچینج کمپنیوں کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 2021; میں متعارف کرائے گئے جدید ترین ادائیگی نظام ’راست ‘ استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے تاکہ اندرون ملک ترسیلات زر بھیجنے والوں اور وصول کنندگان کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس اجازت کے نتیجے میں، ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ترسیلات زر وصول کرنے والے مستفیدین اب اپنی رقوم بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں یا الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز میں موجود اپنے اکائونٹس اور ڈیجیٹل والٹس میں محفوظ اور موثر انداز میں وصول کر سکیں گے۔ یہ سہولت کیش لیس معیشت کے قومی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔









