اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے اسلام آباد کی کرسچن کمیونٹی میں پیش آنے والے حالیہ المناک حادثے کے متاثرین کیلئے بڑے مالی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے جاں بحق ہونے والے تمام آٹھ افراد کے لواحقین کیلئے فی کس 5 لاکھ روپے اور …
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کا اسلام آباد کی کرسچن کمیونٹی میں پیش آنے والے حالیہ المناک حادثے کے متاثرین کیلئے مالی پیکیج کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے اسلام آباد کی کرسچن کمیونٹی میں پیش آنے والے حالیہ المناک حادثے کے متاثرین کیلئے بڑے مالی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے جاں بحق ہونے والے تمام آٹھ افراد کے لواحقین کیلئے فی کس 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے 50 ہزار روپے فی کس فوری طور پر وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے متاثرہ خاندانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ رقم صرف ایک فوری ریلیف ہے، جبکہ آپ کی مکمل بحالی کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حنیف بھائی کے خاندان کے 6 اور یعقوب بھائی کے خاندان کے 2 افراد کی شہادت پر پوری کابینہ افسردہ ہے اور حکومت اس سانحے کو ایک قومی المیہ قرار دیتی ہے۔
سردار محمد یوسف نے کمیونٹی کی جانب سے پیش کی گئی رہائشی پلاٹس اور مکانات کی تعمیرِ نو کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو باضابطہ طور پر وزیراعظم اور وزارتِ داخلہ کے سامنے اٹھائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی ڈی اے (CDA) کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قدیمی آبادی کی دوبارہ تعمیر اور یہاں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق یا پلاٹس کی فراہمی کے لیے اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں سی ڈی اے حکام کو مکمل رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم آفس کو بھیجنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں ریاست کا حصہ ہیں اور ان کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ اعلانات محض "زبانی جمع خرچ” نہیں ہیں بلکہ وزارتِ مذہبی امور اور وزارتِ داخلہ مشترکہ طور پر ان فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ آبادی کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ فورمز پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔








