اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواتین نے محدود وسائل کو مواقع میں بدل کر ملکی معیشت میں ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کیا ہے، دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک خواتین کاروبار، صنعت اور تجارت میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں اور قومی ترقی میں قابلِ فخر حصہ ڈال رہی …
پاکستان کی خواتین نے محدود وسائل کو مواقع میں بدل کر ملکی معیشت میں ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کیا ہے، ہارون اختر خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواتین نے محدود وسائل کو مواقع میں بدل کر ملکی معیشت میں ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کیا ہے، دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک خواتین کاروبار، صنعت اور تجارت میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں اور قومی ترقی میں قابلِ فخر حصہ ڈال رہی ہیں۔پیر کو جوائنٹ پاکستان۔آذربائیجان وومن انٹرپرینیورشپ ڈائیلاگ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی ۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کی خواتین نے محدود وسائل کو مواقع میں بدل کر ملکی معیشت میں ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک خواتین کاروبار، صنعت اور تجارت میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں اور قومی ترقی میں قابلِ فخر حصہ ڈال رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا وژن آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے اور خواتین کی شمولیت کے بغیر قومی ترقی ممکن نہیں۔ ہارون اختر خان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف خواتین کو معاشرے کی معمار اور معیشت کی اصل محرک قرار دیتے ہیں۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ تعلیم، صحت، کاروبار اور پبلک سروس کے شعبوں میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے، تاہم خواتین کاروباری افراد کو فنانس تک رسائی، ڈیجیٹل سہولیات اور عالمی منڈیوں میں شمولیت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق ان مشکلات کے باوجود خواتین صبر، تخلیقی صلاحیت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت خواتین کی معاشی شمولیت کو محض ایک خواہش نہیں بلکہ قومی معاشی حکمتِ عملی بنا رہی ہے۔ ہماری ترجیح صرف شمولیت نہیں بلکہ خواتین کی قیادت، کاروباری وسعت اور عالمی مسابقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی خواتین کی قیادت میں کاروبار کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمیڈا خواتین کو تربیت، رہنمائی، مارکیٹ رسائی اور کاروباری ترقی میں سہولت فراہم کر رہا ہے اور اس کے تین سالہ منصوبے میں خواتین کے لیے خصوصی اور ہدفی اقدامات شامل ہیں۔
خواتین کاروباری افراد کے لیے ایس ایم ای فنانسنگ اسکیموں میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں، جبکہ پاکستان پہلی بار نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ نیشنل انڈسٹریل پالیسی میں بھی خواتین کاروباری افراد کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ہارون اختر خان نے کہا کہ خواتین کی مؤثر شمولیت سے پیداوار، برآمدات اور معاشی مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اسلام آباد ویمن چیمبر اور آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر کے تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاک–آذربائیجان تعلقات میں خواتین کی قیادت میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل، زراعت، آئی ٹی، سیاحت اور تخلیقی صنعتوں میں خواتین کلیدی کردار ادا کریں گی۔
ویمن چیمبرز اب محض نمائشی ادارے نہیں رہے بلکہ معاشی اصلاحات اور ترقی کے مؤثر پلیٹ فارم بن چکے ہیں۔ آج کی خاتون کاروباری رعایت نہیں بلکہ برابری اور منصفانہ مواقع چاہتی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے خواتین کے کاروبار کو معاشی حکمتِ عملی کے مرکز میں رکھنا ہوگا اور حکومت خواتین کے لیے ایک سازگار، جامع اور عالمی معیار کا کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔








