افریقا کپ فائنل میں ہنگامہ آرائی ناقابلِ قبول ہے، جیانی انفینٹینو

رباط۔20جنوری (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل میں پیش آنے والے ہنگامہ خیز واقعات کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سینیگال کی ٹیم، کوچز اور بعض شائقین کے رویے پر سخت تنقید کی ہے۔ای ایس پی این کے مطابق اتوار کو میزبان مراکش کے خلاف فائنل میچ کے دوران ریفری کے فیصلوں کے احتجاج میں سینیگال کے …

رباط۔20جنوری (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل میں پیش آنے والے ہنگامہ خیز واقعات کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سینیگال کی ٹیم، کوچز اور بعض شائقین کے رویے پر سخت تنقید کی ہے۔ای ایس پی این کے مطابق اتوار کو میزبان مراکش کے خلاف فائنل میچ کے دوران ریفری کے فیصلوں کے احتجاج میں سینیگال کے کھلاڑیوں کا میدان چھوڑ دینا ایک بین الاقوامی فائنل کے شایانِ شان نہیں تھا۔ جیانی انفینٹینو نے انسٹاگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ ایسے مناظر کی سخت مذمت کی جانی چاہیے اور انہیں دوبارہ کبھی نہیں دہرایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ افریقی فٹبال کنفیڈریشن (سی اے ایف ) کے تادیبی ادارے اس معاملے پر مناسب کارروائی کریں گے۔

بعد ازاں سی اے ایف نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے واقعات کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ تمام ویڈیوز کا جائزہ لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔میچ کے اختتامی لمحات میں جب مراکش کو ویڈیو ریویو کے بعد پنالٹی دی گئی، تو سینیگال کے کوچ پاپے تھیاو نے احتجاجاً اپنی ٹیم کو میدان سے باہر لے جانے کا فیصلہ کیا، جس کے باعث کھیل تقریباً 15 منٹ تک معطل رہا۔ اس فیصلے پر تھیاو کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مراکش فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ فیفا اور سی اےایف کے سامنے باضابطہ شکایات درج کرائے گی۔

فیڈریشن کے مطابق سینیگال کا میدان چھوڑنا میچ کے معمول کے تسلسل میں خلل اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر منفی اثرات کا باعث بنا۔واقعے کے دوران سینیگال کے مشتعل شائقین نے سٹیڈیم میں بدامنی پھیلائی، رکاوٹیں عبور کیں، کرسیاں میدان میں پھینکیں اور سکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپیں ہوئیں، جس پر پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔فیفا صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ میدان چھوڑنا اور تشدد کسی صورت قابلِ برداشت نہیں، اور کھلاڑیوں و ٹیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھیل کے قوانین کے اندر رہتے ہوئے مثال قائم کریں۔میچ دوبارہ شروع ہونے کے بعد اضافی وقت میں سینیگال نے پاپے گے کے شاندار گول کی بدولت فتح حاصل کر کے افریقہ کپ کا ٹائٹل جیت لیا۔

تاہم اس کامیابی کے باوجود فائنل میں پیش آنے والے واقعات نے افریقی فٹبال کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔مراکش کے کوچ ولید ریگراگی نے بھی ان واقعات کو "شرمناک” قرار دیا، جبکہ پنالٹی ضائع کرنے والے براہیم ڈیاز نے بعد میں قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ ناکامی ان کے لیے گہرا صدمہ ہے، مگر وہ دوبارہ مضبوطی سے واپس آنے کی کوشش کریں گے۔

 

مزید خبریں