اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم اختر عباس کی بریت کی درخواست میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ مجرم کی بیوی نے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا اور وہ شوہر کے ساتھ نہیں رہتی تھی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے استفسار پر وکیل نے …
سپریم کورٹ نے بیوی کے قتل کے مجرم کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم اختر عباس کی بریت کی درخواست میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ مجرم کی بیوی نے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا اور وہ شوہر کے ساتھ نہیں رہتی تھی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ واقعہ 2015ء میں رات ایک بجے پیش آیا۔ وکیل کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں صرف ایک زخم سینے پر تھا ۔
وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مقتولہ اپنے والدین کے گھر رہتی تھی اور دراصل اسے اس کے سوتیلے والد نے قتل کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقوعہ کے مطابق گواہان پیچھے کی جانب موجود تھے، اس لیے وہ ملزم کی درست شناخت نہیں کر سکتے۔
اس موقع پر پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ سالہ ازدواجی زندگی کے بعد شناخت قد و قامت اور جسامت سے بھی ہو سکتی ہے۔ وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت سنائی تھی جسے بعد ازاں ہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔








