وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت بدھ 21 جنوری تک ملتوی

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت بدھ 21 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس وفاقی آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔بنچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل ہیں ۔منگل کو سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں کے وکیل اویس علی شاہ عدالت …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت بدھ 21 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس وفاقی آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔بنچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل ہیں ۔منگل کو سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں کے وکیل اویس علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل مکمل کیے۔

وکیل اویس علی شاہ نے موقف اختیار کیا کہ فائنل ٹیکس ادا کرنے کے بعد سپر ٹیکس عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو شخص 100 روپے کماتا ہے یا 10 ہزار روپے، سب ایک ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جو اصول انصاف کے منافی ہے۔چیف جسٹس امین الدین خان نے وکلاء کے طویل دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء دلائل میں غیر ضروری طور پر زیادہ وقت لے رہے ہیں، اب عدالت کو ایک واضح ٹائم فریم بنانا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء دلائل کے لیے تھوڑی دیر مانگ کر گھٹنوں کے بل چل دیتے ہیں جس سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

بعد ازاں مختلف کمپنیوں کے وکیل جمال احمد سکھیرا روسٹرم پر آئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے مقابلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کے دلائل سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور وہ دلائل کے لیے دو دن کا وقت چاہتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے واضح ریمارکس دیئے کہ یہ آخری کیس ہے، اس کے بعد کسی بھی وکیل کو فالتو وقت نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا وقت ضائع ہو رہا ہے اور اب دلائل کو محدود کرنا ہوگا۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کر دی۔