مقررین کا صحت عامہ کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مربوط تحقیق، مضبوط صحت ،تعلیم اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):صحت عامہ کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مربوط تحقیق، مضبوط صحت ،تعلیم اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ بات منگل کو پاکستان میں صحت تعلیم، تحقیق اور پالیسی کے موضوع پر منعقدہ مشترکہ سیمینار میں مقررین نے کہی۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز اسلام آباد نے آغا خان یونیورسٹی کراچی کے اشتراک سے پی اے …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):صحت عامہ کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مربوط تحقیق، مضبوط صحت ،تعلیم اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ بات منگل کو پاکستان میں صحت تعلیم، تحقیق اور پالیسی کے موضوع پر منعقدہ مشترکہ سیمینار میں مقررین نے کہی۔ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز اسلام آباد نے آغا خان یونیورسٹی کراچی کے اشتراک سے پی اے ایس سیکرٹریٹ میں ہائبرڈ سیمینار کا انعقاد کیا جس کا مقصد مختلف سٹیک ہولڈرز کے مابین تعاون کو فروغ دینا، صحت سائنسز کی تعلیم و تحقیق کو مضبوط بنانا اور قومی صحت منصوبے کے لئے ایک مؤثر ضابطہ جاتی فریم ورک کی تیاری میں معاونت فراہم کرنا تھا۔

سیمینار میں ملک بھر کی جامعات اور تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے 85 سے زائد سائنسدانوں، ماہرین تعلیم، سکالرز، طبی ماہرین، فارماکولوجسٹس اور پالیسی سازوں نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ 42 سے زائد محققین نے آن لائن شرکت کی۔ افتتاحی خطاب میں آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر اور پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے فیلوپروفیسر ڈاکٹر محمد وسے نے پاکستان کو درپیش صحت اور حیاتیاتی علوم کے منفرد چیلنجز پر روشنی ڈالی اور صحت کے وسائل کے پائیدار انتظام اور تحفظ کے لئے مربوط اور جدید طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیکرٹری جنرل پی اے ایس پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم بیگ نے قومی سماجی و معاشی ترقی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور پر غور و خوض میں اکیڈمی کے کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز میں قائم کئے گئے سائنٹیفک ایڈوائس ٹو گورنمنٹ یونٹ (پالیسی یونٹ) کے قیام سے بھی آگاہ کیا جس کا مقصد متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے سرکاری پالیسی دستاویزات کا جائزہ اور بہتری ہے۔ دیگر مقررین میں میجر جنرل (ر) عامر اکرام سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی ایچ، ڈاکٹر حافظ محمد مانان حیدر خان، اسسٹنٹ پروفیسر شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی اور ممبر الائیڈ ہیلتھ کونسل اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر عائشہ رؤف، نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال خان، وائس چانسلر شفا یونیورسٹی، ڈاکٹر عبیداللہ خان سینئر ریسرچر پی ایچ آر آئی اور پروفیسر ڈاکٹر انورالحسن گیلانی، فیلو پی اے ایس اور ڈبلیو ایچ او کے مشیر شامل تھے۔

مقررین نے صحت تعلیم میں اصلاحات، ٹرانسلیشنل ریسرچ، ضابطہ جاتی چیلنجز اور اکیڈمیا و پالیسی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر تفصیلی خیالات کا اظہار کیا۔ سیمینار کے شریک چیئر پروفیسر ضیاء الحق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تحقیق، تربیت اور قومی و بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں اپنے تعلیمی و انتظامی تجربات کا حوالہ دیا۔ اختتامی خطاب میں مہمانِ خصوصی محمد اسلم گھوری، سپیشل سیکرٹری وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری نے کہا کہ 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بامعنی اصلاحات کے لئے اکیڈمیا، ریگولیٹرز، محققین اور وزارت کے مابین فعال تعاون انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی محققین، ماہرین اور تعلیمی اداروں کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے پر پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے کردار کو سراہا۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سیمینار ماہرین، اساتذہ، محققین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ افراد کے درمیان مسلسل مکالمے کی بنیاد بنے گا اور پاکستان میں صحت تعلیم، تحقیق اور پالیسی کے مستقبل کے لئے ایک جامع روڈ میپ کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔