سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سمندروں کے تحفظ، بحری انتظام و انصرام میں بہتری اور ماحولیاتی چیلنجز سے بروقت نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، وفاقی وزیر برائے بحری امور کی سپارکو ہیڈکوارٹر کے دورے کے موقع پر گفتگو

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بندرگاہوں کی توسیع، سمندری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید خلائی نگرانی کے نظام اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سمندروں کے تحفظ، بحری انتظام و انصرام میں بہتری اور ماحولیاتی چیلنجز سے بروقت نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار …

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بندرگاہوں کی توسیع، سمندری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید خلائی نگرانی کے نظام اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سمندروں کے تحفظ، بحری انتظام و انصرام میں بہتری اور ماحولیاتی چیلنجز سے بروقت نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران کیا۔ یہ بحری امور کے کسی وفاقی وزیر کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ تھا۔

دورے کے موقع پر چیئرمین سپارکو یوسف خان اور اعلیٰ حکام نے وفاقی وزیر کو ادارے کے نظامِ کار، سائنسی سرگرمیوں اور تکنیکی صلاحیتوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ، بحری تحفظ اور بندرگاہوں کے انتظام میں سپارکو کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر کو نئی بندرگاہوں کے قیام کے لیے ممکنہ مقامات کا سیٹلائٹ پر مبنی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جو ملک میں بحری انفرااسٹرکچر کی توسیع کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ قومی سمندری حدود میں ریلیف اور ریسکیو آپریشنز کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ردِعمل کے وقت اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ساحلی علاقوں کو درپیش قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، سمندری وسائل کے پائیدار استعمال اور بحری ماحول کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی بحری پالیسیوں کو عالمی ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اوشن بایو ڈائیورسٹی ٹریٹی کا رکن ہے اور قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیات کے تحفظ سمیت عالمی سطح پر سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

بریفنگ کے دوران سپارکو حکام نے وزارتِ بحری امور میں قائم آرٹیفیشل انٹیلی جنس میری ٹائم سیکریٹریٹ کے ذریعے بندرگاہوں کے لیے اے آئی پر مبنی حل تیار کرنے کی پیشکش کی، جن میں کارگو ڈویل ٹائم کی نگرانی اور کسٹمز سے متعلق رکاوٹوں کے حل کے نظام شامل ہیں۔ اجلاس میں وزارتِ بحری امور اور سپارکو کے مابین تعاون کو باضابطہ شکل دینے پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ جلد ایک دستخطی تقریب کے ذریعے مشترکہ منصوبوں کے لیے منظم فریم ورک قائم کیا جائے گا، جبکہ رابطہ اور عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے فوکل پرسنز بھی نامزد کیے جائیں گے۔ سپارکو حکام نے سمندری شعبے میں ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ امیجری، ڈیجیٹل ماڈلنگ کے ذریعے مینگرووز کی نگرانی، بحری ٹریفک کی ٹریکنگ اور ساحلی علاقوں میں تیل کے اخراج کی بروقت نشاندہی سے متعلق صلاحیتوں سے بھی آگاہ کیا۔

اس کے علاوہ ساحلی طوفانی لہروں اور سمندری طوفانوں کی پیشگی اطلاع کے نظام پر بھی بریفنگ دی گئی۔وفاقی وزیر نے قدرتی آفات سے نمٹنے میں سپارکو کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت وارننگ سسٹمز ساحلی آبادیوں کو شدید موسمی حالات سے پہلے خبردار کر کے قیمتی جانیں بچانے اور معاشی نقصانات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔جنید انوار چوہدری نے عالمی کوسپاس-سارسیٹ پروگرام میں سپارکو کی شمولیت کو بھی سراہا، جو سیٹلائٹ کے ذریعے سرچ اینڈ ریسکیو خدمات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ٹائم آپریشنز میں بیکن بیسڈ سسٹمز کے انضمام سے سمندر میں تحفظ اور ہنگامی ردِعمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

سپارکو حکام نے شہری سیلاب کے خطرات کی ماڈلنگ اور مستقبل میں ساحلی و بندرگاہی تحفظ کے منصوبوں میں اس کے انضمام سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ حکام کے مطابق مسلسل مانیٹرنگ سسٹمز ساحلی آلودگی، سمندری پانی کے زمینی علاقوں میں داخلے اور ماحولیاتی ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ساحلی ماحولیاتی نظام کی مسلسل نگرانی سے پانی کے معیار اور مجموعی ماحولیاتی صحت کا بہتر اندازہ ممکن ہے، جبکہ ڈیٹا پر مبنی فیصلے بحری شعبے میں مؤثر پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کا ساحل سمندری سطح میں اضافے، ساحلی کٹاؤ اور شدید موسمی واقعات جیسے خطرات سے دوچار ہے، جس کے پیش نظر بحری اداروں اور سائنسی تنظیموں کے مابین مضبوط اشتراکِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔