اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی ) نے اسلام آباد میں پاکستان–چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس (پی سی اے آئی سی) کے کامیاب انعقاد کو سی پیک فیز II کے تحت زرعی تعاون اور سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویلیو چین کی ترقی اور برآمدات پر مبنی نمو پر خصوصی توجہ …
اسلام آباد میں پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس سی پیک فیز II کے تحت زرعی تعاون اور سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے فروغ میں اہم سنگِ ہے، بورڈ آف انویسٹمنٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی ) نے اسلام آباد میں پاکستان–چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس (پی سی اے آئی سی) کے کامیاب انعقاد کو سی پیک فیز II کے تحت زرعی تعاون اور سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویلیو چین کی ترقی اور برآمدات پر مبنی نمو پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کانفرنس میں اعلیٰ سرکاری حکام، پاکستانی و چینی سرمایہ کاروں، زرعی کاروبار سے وابستہ رہنماؤں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ماہرین نے شرکت کی، جہاں پاکستان کے زرعی اور متعلقہ شعبہ جات میں 1.345 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے گئے۔
اس موقع پر حکومتِ پاکستان کے کاروبار دوست ماحول کے فروغ اور ترجیحی شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔کانفرنس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظمِ پاکستان میاں محمد شہباز شریف تھے، جبکہ عوامی جمہوریہ چین کے سفیر، جناب جیانگ زائیدونگ نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی، جو پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک اقتصادی تعاون کی مضبوطی کا مظہر ہے۔سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے تناظر میں، ایڈیشنل سیکریٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ ڈاکٹر عرفہ اقبال نے شرکا کو پاکستان کو ایک مسابقتی سرمایہ کاری منزل کے طور پر فروغ دینے میں بی او آئی کے کلیدی کردار پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کاروبار میں آسانی، منظوری کے عمل کو سہل بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی معاونت کے لیے جاری پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر عرفہ اقبال نے سی پیک سے متعلق منصوبوں کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دوسری پاکستان–چین بی ٹو بی ( بزنس ٹو بزنس )سرمایہ کاری کانفرنس کے نتائج بھی پیش کیے، جس کے نتیجے میں زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سمیت ترجیحی شعبوں میں 9.9 ارب ڈالر مالیت کے مفاہمتی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اتفاق ہوا۔پی سی اے آئی سی کے دوران سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشنز، متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز، صنعتی ڈویلپرز اور کاروباری تنظیموں کی جانب سے سیکٹرل بریفنگز دی گئیں، جس کے بعد چینی مترجمین کی معاونت سے منظم بی ٹو بی میچ میکنگ سیشنز منعقد ہوئے۔ نمائشوں اور پچ بُک شوز کے ذریعے پاکستان کی زرعی صلاحیت، بینک ایبل منصوبے اور سرمایہ کاری کے لیے تیار ویلیو چینز کو اجاگر کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کیے گئے۔
سرمایہ کاری کی مربوط سہولت کاری کے اظہار کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کی جانب سے خصوصی اسٹالز قائم کیے گئے، جن میں بورڈ آف انویسٹمنٹ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، پاکستان انڈسٹریل اینڈ ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی آئی ڈی سی )، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی)، صوبائی بورڈز آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ، صوبائی محکمہ جاتِ زراعت، اور پاکستانی و چینی کاروباری تنظیمیں شامل تھیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے سرمایہ کاروں کو براہِ راست رابطے، شعبہ جاتی مواقع کے جائزے اور سہولت کاری کی خدمات تک رسائی حاصل ہوئی۔
کانفرنس میں جن ترجیحی شعبوں کو نمایاں کیا گیا ان میں زرعی مداخل (Agri-inputs) اور کیمیکلز، فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن، گوشت اور ڈیری، پھل اور سبزیاں، فشریز اور آبی زراعت، کولڈ چین لاجسٹکس، اسمارٹ آبپاشی، اور پریسیژن ایگریکلچر ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مطابق، پی سی اے آئی سی پاکستان کے زرعی شعبے میں چینی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کے فروغ، ٹیکنالوجی اور سرمائے پر مبنی جوائنٹ وینچرز کے قیام، اور سی پیک فیز II کے تحت صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے میں ایک مؤثر محرک ثابت ہوگی۔ یہ کانفرنس زرعی سپلائی چینز کی جدید کاری، برآمدی مسابقت میں اضافے اور پاکستان کو علاقائی و عالمی ویلیو چینز میں مزید مؤثر انداز میں ضم کرنے کی قومی حکمتِ عملی کی عکاس ہے۔
وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، جناب قیصر احمد شیخ کی قیادت میں، بورڈ آف انویسٹمنٹ سی پیک فیز II کے تحت زراعت سمیت ترجیحی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی مکمل سہولت کاری کے لیے پُرعزم ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ آئندہ بھی وفاقی اور صوبائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی اشتراک سے پی سی اے آئی سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے پیدا ہونے والی سرمایہ کاری دلچسپی کو بینکیبل منصوبوں، جوائنٹ وینچرز اور پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔








