پارلیمانی کاکس برائے بچوں کے حقوق کا کوآرڈینیشن میٹنگ کا انعقاد

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):پارلیمانی کاکس برائے بچوں کے حقوق (پی سی سی آر ) نے اپنے کنوینر ڈاکٹر نکھت شکیل خان، ایم این اے/پارلیمانی سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی سربراہی میں ایک اہم کوآرڈینیشن میٹنگ منعقد کی، جس میں تمام صوبائی اور علاقائی کوآرڈینیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد پاکستان بھر میں بچوں کے حقوق سے متعلق اہم مسائل پر مشاورت، تجربات کا تبادلہ، پالیسی ہم آہنگی …

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):پارلیمانی کاکس برائے بچوں کے حقوق (پی سی سی آر ) نے اپنے کنوینر ڈاکٹر نکھت شکیل خان، ایم این اے/پارلیمانی سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی سربراہی میں ایک اہم کوآرڈینیشن میٹنگ منعقد کی، جس میں تمام صوبائی اور علاقائی کوآرڈینیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد پاکستان بھر میں بچوں کے حقوق سے متعلق اہم مسائل پر مشاورت، تجربات کا تبادلہ، پالیسی ہم آہنگی اور وفاقی و صوبائی سطح پر تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نکھت شکیل خان نے صوبائی نصاب میں “گڈ ٹچ، برا ٹچ” کی تعلیم متعارف کرانے، وزارتِ صحت کے تعاون سے آبادی کنٹرول سے متعلق آگاہی مہمات کو مؤثر بنانے، اور بچوں میں رکی ہوئی نشوونما کے مسئلے کے حل پر زور دیا۔ انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این آئی ایچ ) کے کردار کی اہمیت بیان کی۔اسلام آباد کی کوآرڈینیٹر نمبر قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی نے ہراسانی کے تدارک اور بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے اسکولوں میں سیفٹی کیمرے نصب کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

سندھ کی صوبائی کوآرڈینیٹر ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے بدسلوکی کے شکار بچوں سے متعلق وفاقی اور صوبائی سطح پر منظم ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کراچی کے ہر ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم ہیں۔ انہوں نے ملک گیر آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بچے بلا خوف زیادتی کی اطلاع دے سکیں۔آزاد جموں و کشمیر کی علاقائی کوآرڈینیٹر ممبر قومی اسمبلی کرن عمران دار نے بچوں میں فزی ڈرنکس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صحت کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ممبر قومی اسمبلی فرح اکبر ناز نے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی کوآرڈینیشن میٹنگ کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آؤٹ آف اسکول چلڈرن (او ایس ایس سی ) کی تعداد ممکنہ طور پر پہلے بیان کردہ 26 ملین سے کہیں زیادہ ہے، جس کے لیے فوری ازسرِنو جائزہ اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

اسلام آباد و برطانیہ کے کوآرڈینیٹر ممبر قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے آبادی کنٹرول میں صوبائی سطح پر سست روی کی نشاندہی کی اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ پیمرا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سکندر چوہدری آئندہ اجلاس میں کاکس کو بریف کریں گے۔ انہوں نے بچوں کے حقوق سے متعلق جرائم پر پی سی سی آر کے فوری اور متحدہ ردعمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایسے مقدمات کے لیے مختصر ٹرائل کی قانون سازی کی حمایت کی جن کے فیصلے تین ماہ کے اندر ممکن ہوں۔پنجاب کی صوبائی کوآرڈینیٹر صبا صادق، ایم این اے، نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان خلا کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بچوں سے متعلق مسائل کے باہمی ربط کی نشاندہی کی، جن میں بچوں کا منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال، آبادی میں اضافے سے بچوں کی کمزوری، اور جنسی زیادتی و بھیک مافیا کے ذریعے استحصال شامل ہیں۔ انہوں نے سفارش کی کہ ان معاملات کو نمایاں کرنے کے لیے پیمرا کو شامل کیا جائے تاکہ بچوں کے حقوق کے ماہرین مرکزی میڈیا مباحثوں میں جگہ پا سکیں۔

بلوچستان کی صوبائی کوآرڈینیٹر کرن حیدر، ایم این اے، نے بچوں کی بھکاری کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کے ساتھ مل کر صوبے میں چائلڈ رائٹس کاکس کے قیام کے لیے رابطوں سے آگاہ کیا۔ پنجاب کے صوبائی کوآرڈینیٹر جناب دانیال چ، پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات، نے یقین دہانی کرائی کہ وہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیمرا کی بریفنگ کا بندوبست کریں گے۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی کوآرڈینیٹر شائستہ خان، ایم این اے، نے شیلٹر ہومز میں ناقص غذائی معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی غذائیت پر کام کرنے والی تنظیموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ وفاقی، صوبائی اور عوامی سطح پر ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، قانون سازی کے ردعمل کو مضبوط کیا جائے گا اور بچوں کے حقوق سے متعلق مسائل کو مسلسل اور مؤثر توجہ دی جائے گی۔