اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد عاصم کھچی سےبلغارین نیوز ایجنسی (بی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کریل ویلچیف نے بدھ کو ملاقات کی اور دونوں خبر رساں اداروں کے درمیان میڈیا تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔بلغاریہ کی سفیر ایرینا گانچیوا کے ہمراہ "اے پی پی" ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر ڈی جی" بی ٹی اے" کو …
منیجنگ ڈائریکٹر اے پی پی محمد عاصم کھچی سے بلغارین نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کریل ویلچیف کی ملاقات، دونوں خبر رساں اداروں کے درمیان میڈیا تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد عاصم کھچی سےبلغارین نیوز ایجنسی (بی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کریل ویلچیف نے بدھ کو ملاقات کی اور دونوں خبر رساں اداروں کے درمیان میڈیا تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔بلغاریہ کی سفیر ایرینا گانچیوا کے ہمراہ "اے پی پی” ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر ڈی جی” بی ٹی اے” کو ادارے کے پیشہ ورانہ نظامِ کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایم ڈی اے پی پی محمد عاصم کھچی نے اُنہیں "اے پی پی "خبروں کی ترسیل سے متعلق آگاہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ اے پی پی کا وسیع ادارتی نیٹ ورک اسلام آباد میں ہیڈکوارٹرز کے علاوہ علاقائی بیوروز، سٹیشنز، بیرون ملک نمائندوں اور ملک بھر میں جز وقتی رپورٹرز کے بڑے نیٹ ورک پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے پی پی نے دنیا کے پچاس سے زائد ممالک کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کے ساتھ خبروں کے تبادلے کے معاہدے کر رکھے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ڈی جی بی ٹی اے کریل ویلچیف نے اپنی ایجنسی کی خبروں کی سرگرمیوں اور ڈیجیٹل سروسز کے بارے میں آگاہ کیا اوراے پی پی کے ساتھ قریبی میڈیا تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں اداروں کے درمیان صحافتی تبادلہ پروگرام کی تجویز بھی پیش کی تاکہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
اس موقع پر ایم ڈی اے پی پی نے ڈی جی بی ٹی اے کو سرکاری خبر رساں ادارے کے پہلے دورے کی یادگار کے طور پر شیلڈ پیش کی۔وفد نے اے پی پی کے مختلف شعبہ جات، جن میں سنٹرل نیوز ڈیسک، ڈیٹا سینٹر اور سٹوڈیوز شامل ہیں کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر سبین عثمان خٹک اور ڈائریکٹر نیوز شمائلہ عندلیب بھی موجود تھیں۔








