اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):انسانی حقوق اور ہم آہنگی کی سرگرم تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈویلپمنٹ (انسپاڈ) کے صدر ڈاکٹر محمد طاہر تبسم نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی عدالتوں کو کشمیری قیادت کے خلاف گھناؤنے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے،بھارتی عدالتیں کشمیرکی موثر آوازوں کو دبانے کے لئے غیر انسانی، غیر قانونی اور انتقامی ہتھکنڈے آزما رہی ہیں۔ ایک بیان میں ڈاکٹر طاہر …
بھارتی حکومت اپنی عدالتوں کو کشمیری قیادت کے خلاف بطور گھناؤنا ہتھیار استعمال کر رہی ہے،صدر انسپاڈ ڈاکٹر محمد طاہر تبسم

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):انسانی حقوق اور ہم آہنگی کی سرگرم تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈویلپمنٹ (انسپاڈ) کے صدر ڈاکٹر محمد طاہر تبسم نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی عدالتوں کو کشمیری قیادت کے خلاف گھناؤنے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے،بھارتی عدالتیں کشمیرکی موثر آوازوں کو دبانے کے لئے غیر انسانی، غیر قانونی اور انتقامی ہتھکنڈے آزما رہی ہیں۔
ایک بیان میں ڈاکٹر طاہر تبسم نے کہا کہ کشمیری قائدین کے خلاف درج تمام مقدمات جعلی، جھوٹے اور سیاسی انتقام پر مبنی ہیں ،یٰسین ملک، شبیر احمد شاہ، فاروق احمد ڈار، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، مسرت عالم، ظفر اکبر بٹ اور دیگر حریت رہنمائوں کو جیلوں میں حبس بے جا میں رکھ کر انہیں علاج معالجہ کی سہولتوں سے دور رکھا گیا ہے ، ان سب کو ناقص، مضرصحت خوراک دے کرنقصان پہنچایا جارہا ہے جو بھارتی قوانین اور عالمی چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری لیڈر شپ کی جان بچانے کے لئے فوری کردار ادا کریں اور کشمیری لیڈرشپ کی بے جا سزاؤں کے خلاف فوری سفارتی و سیاسی کوششیں کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ یٰسین ملک بھارتی مظالم اور انتقام کا نشانہ ہیں، دخترانِ ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کی سزا خواتین کو جبر سے دبانے کے حربے ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مساجد، اقلیتی عبادت گاہوں میں مداخلت اور ذاتی جائیدادوں پر قبضہ کرنا مذہبی اور ذاتی آزادی میں سراسر مداخلت ہے۔1989 سے اب تک 96,481 بے گناہ کشمیری شہید کئے گئے ہیں، جن میں 7,409 افراد کو حراستی اور جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا ہے جبکہ 180,018 شہری گرفتار کیے گئے، 110,562 مکانات اور عمارتیں مسمار کی گئیں۔ 22,991 خواتین بیوہ اور 108,007 بچے یتیم ہو چکے ہیں، جبکہ 11,269 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہندو توا کی پالیسی پر گامزن بی جے پی کی بھارتی حکومت انسانیت بھول کر پاگل ہو چکی ہے اور انتقام و دشمنی پر اتر آئی ہے۔








