کشمیر اور فلسطین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس میں شرکت ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس میں شرکت ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے ۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں بیرسٹر گوہر کے نکتہ اعتراض اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بعض قومی اور …

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس میں شرکت ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے ۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں بیرسٹر گوہر کے نکتہ اعتراض اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بعض قومی اور بین الاقوامی معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں اور ان پر فیصلے امتِ مسلمہ اور پاکستان کے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت صرف موجودہ حکومت کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل کے قریب معاملہ ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جب بھی پاکستان کے مفاد، مستقبل اور سلامتی کی بات ہو گی تو پوری قوم ایک آواز ہو کر سامنے آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی منظرنامے پر دو اہم اور حساس مسائل زیرِ بحث ہیں، جن میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سرفہرست ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ان دونوں مسائل پر اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں آواز بلند کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کے طور پر اجاگر کیا، جبکہ غزہ میں فلسطینی عوام بالخصوص معصوم بچوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ دنیا بھر میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور ممالک نے کی اور لاکھوں افراد نے ان مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق غزہ کے مسئلے کا حل مستقل جنگ بندی اور تعمیرِ نو ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتا ہے اور ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا آیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد بھی مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیرِ نو کی حمایت ہے، جس میں پاکستان کا قومی مفاد مقدم رکھا گیا ہے۔ یہ کوئی سیاسی بحث کا معاملہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا پیغام ہے جو فلسطینی عوام اور پاکستان کے عوام دونوں تک پہنچے گا۔