سپریم کورٹ نے محکمہ آبپاشی پنجاب کے ملازم کو 2012 سے ترقی کا حق دے دیا، سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے محکمہ آبپاشی پنجاب کے ملازم فخر مجید کی ترقی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب سروس ٹریبونل کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور کہا ہے کہ درخواست گزار کو 21 جنوری 2012 سے ڈرافٹس مین (بی پی ایس-14) کے عہدے پر ترقی یافتہ تصور کیا جائے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تفصیلی تحریری …

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے محکمہ آبپاشی پنجاب کے ملازم فخر مجید کی ترقی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب سروس ٹریبونل کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور کہا ہے کہ درخواست گزار کو 21 جنوری 2012 سے ڈرافٹس مین (بی پی ایس-14) کے عہدے پر ترقی یافتہ تصور کیا جائے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنایا۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فخر مجید 2008 سے مسلسل کرنٹ چارج کی بنیاد پر ڈرافٹس مین کے عہدے پر فرائض انجام دے رہے تھےتاہم 2012 میں ہونے والی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (ڈی پی سی) میں بلا جواز ان کا کیس زیر غور نہیں لایا گیا۔ عدالت کے مطابق محکمہ کی اس غفلت اور نااہلی کا خمیازہ ملازم کو نہیں بھگتنا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ پنجاب سول سرونٹس ایکٹ کے تحت ترقی خالی آسامی کی تاریخ سے نہیں دی جا سکتی تاہم موجودہ کیس میں یہ شق لاگو نہیں ہوتی کیونکہ درخواست گزار پہلے ہی کرنٹ چارج پر اسی عہدے پر کام کر رہا تھا۔ عدالت نے کہا کہ جب کوئی ملازم اہلیت، سنیارٹی اور فٹنس کے معیار پر پورا اترتا ہو تو اسے بروقت ترقی کے لیے زیر غور لانا اس کا آئینی اور قانونی حق ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ترقی سرکاری ملازم کے کیریئر کا فطری تسلسل ہے اور محکموں کی انتظامی نااہلی، ڈی پی سی کے انعقاد میں غیر ضروری تاخیر یا فیصلوں میں غفلت ملازمین کے حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ عدالت کے مطابق ترقی میں بلا جواز تاخیر آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ع

دالت عظمیٰ نے آبزرویشن دی کہ ریاست بطور آجر ایک ماڈل ایمپلائر ہوتی ہے اور اسے شفاف، منصفانہ اور بروقت طریقے سے ترقیوں کے عمل کو مکمل کرنا چاہیے۔ فیصلے میں عالمی گورننس کے اصولوں اور اچھی انتظامیہ کے بین الاقوامی معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان میں سرکاری اداروں کو مؤثر اور جوابدہ نظام اپنانا ہوگا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پنجاب سروس ٹریبونل درخواست گزار کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا لہٰذا ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا جاتا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ فخر مجید کو 21 جنوری 2012 سے ڈرافٹس مین (بی پی ایس-14) پر ترقی یافتہ تصور کیا جائے۔