چین کی معروف کمپنی شاندونگ ژن شو انٹرنیشنل کارپوریشن کا نیشنل سکلز یونیورسٹی کو عالمی معیار کی اطلاقی و ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کیلئے 30 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):چین کی معروف کمپنی شاندونگ ژن شو انٹرنیشنل کارپوریشن نے نیشنل سکلز یونیورسٹی (این ایس یو) اسلام آباد کو عالمی معیار کی اطلاقی و ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لیے 30 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جسے پاکستان میں سکلز ایجوکیشن اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں نیشنل سکلز …

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):چین کی معروف کمپنی شاندونگ ژن شو انٹرنیشنل کارپوریشن نے نیشنل سکلز یونیورسٹی (این ایس یو) اسلام آباد کو عالمی معیار کی اطلاقی و ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لیے 30 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جسے پاکستان میں سکلز ایجوکیشن اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد اور شاندونگ ژن شو انٹرنیشنل کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

معاہدے پر شاندونگ ژن شو انٹرنیشنل کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹریسی لی جبکہ نیشنل سکلز یونیورسٹی کی جانب سے بانی وائس چانسلر پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر محمد مختار نے دستخط کیے۔ تقریب میں یونیورسٹی کی سینئر قیادت اور چینی کمپنی کے اعلیٰ سطحی وفد نے بھی شرکت کی۔معاہدے کے تحت شاندونگ ژن شو انٹرنیشنل ابتدائی طور پر 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جس کا مقصد نیشنل سکلز یونیورسٹی کے تعلیمی انفراسٹرکچر، لیبارٹریز، ورکشاپس اور تربیتی نظام کو عالمی پیشہ ورانہ اور اطلاقی ٹیکنالوجی کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنا ہے۔

سرمایہ کاری کے منصوبے میں کراچی میں نیشنل سکلز یونیورسٹی کے نئے کیمپس کے قیام کے لیے زمین کی فراہمی بھی شامل ہے جس کے لیے ابتدائی طور پر 10 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق یہ شراکت داری نصاب کی جدید کاری پر مرکوز ہوگی جس میں چین کے جدید ووکیشنل اور اطلاقی تعلیمی ماڈلز، خصوصاً زیبو پولی ٹیکنک ماڈل سے استفادہ کیا جائے گا۔ تعاون کے نمایاں شعبوں میں انڈسٹری 4.0، سمارٹ مینوفیکچرنگ، آٹومیشن، ڈیجیٹل کنسٹرکشن، قابل تجدید توانائی اور جدید اطلاقی انجینئرنگ شامل ہیں۔موثر نفاذ اور نگرانی کے لیے ایک مشترکہ سٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی جبکہ انتظامی امور مشترکہ گورننس فریم ورک کے تحت انجام دیئے جائیں گے۔

نیشنل سکلز یونیورسٹی اپنی پبلک سیکٹر حیثیت برقرار رکھے گی تاہم بین الاقوامی پروگرامز اور مشترکہ اقدامات کے لیے شاندونگ ژن شو کو سٹریٹجک کردار حاصل ہوگا۔فیکلٹی ڈویلپمنٹ کو اس شراکت داری کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے جس کے تحت چینی ماہرین ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرامز، مشترکہ تدریس اور تعلیمی مواد کی تیاری میں معاونت فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستانی طلبہ کے لیے انٹرن شپس، اپرنٹس شپس اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے جو ملکی صنعت، سی پیک کے دوسرے مرحلے اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹس سے منسلک ہوں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے کہا کہ یہ معاہدہ نیشنل سکلز یونیورسٹی کے اس مشن کا عملی اظہار ہے جس کا مقصد مہارتوں کو قومی اثاثہ بنانا اور نوجوانوں کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانا ہے۔وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرچہ ماضی میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تاہم این ایس یو اور شاندونگ ژن شو کے درمیان یہ معاہدہ سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، نصاب کی اصلاح، فیکلٹی کی استعداد سازی اور نئے کیمپس کے قیام کو یکجا کرتا ہے جو مہارتوں پر مبنی پائیدار ترقی کے لیے ایک موثر اور قابل عمل روڈ میپ ثابت ہوگا۔