برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کا دورۂ چین ، امریکا اور چین میں سے کسی ایک کے انتخاب سے انکار

لندن ۔27جنوری (اے پی پی):برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ خصوصی تعلقات اور چین کے ساتھ روابط کے فروغ میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرے گا۔ تا س کے مطابق انہوں نے یہ بات چین کے متوقع دورے سے قبل بلومبرگ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ انہیں اکثر ممالک کے درمیان …

لندن ۔27جنوری (اے پی پی):برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ خصوصی تعلقات اور چین کے ساتھ روابط کے فروغ میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرے گا۔ تا س کے مطابق انہوں نے یہ بات چین کے متوقع دورے سے قبل بلومبرگ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ انہیں اکثر ممالک کے درمیان انتخاب کرنے کا کہا جاتا ہے، تاہم وہ ایسا نہیں کرتے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے دوران بھی ان پر امریکا اور یورپ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا دباؤ تھا، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔

برطانوی وزیرِاعظم نے کہا کہ امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات برطانیہ کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان تعلقات کو کاروبار، سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں برقرار رکھا جائے گا۔ تاہم ان کے بقول دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کو نظرانداز کرنا دانشمندانہ نہیں ہوگا، کیونکہ وہاں کاروباری مواقع موجود ہیں۔کیئر اسٹارمر منگل کے روز وزرا اور کاروباری رہنماؤں کے ایک وفد کے ہمراہ چین روانہ ہوں گے، جس کے بعد وہ جاپان کا بھی دورہ کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 60 برطانوی چیف ایگزیکٹو افسران بیجنگ میں ان کے ہمراہ ہوں گے۔یہ دورہ 2018 کے بعد کسی برطانوی وزیرِاعظم کا پہلا دورۂ بیجنگ ہوگا، جب سابق وزیرِاعظم تھریسا مے نے چینی دارالحکومت میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔برطانوی میڈیا کے مطابق اس دورے سے عالمی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے باوجود برطانیہ اور چین کے تعلقات میں ایک بار پھر مبینہ "سنہری دور” کی بحالی کی امید کی جا رہی ہے۔

 

مزید خبریں