امریکی صدر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے، یورپی تجزیہ نگاروں کا انتباہ

واشنگٹن۔28جنوری (اے پی پی):یورپی تجزیہ نگاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبر دار کیا ہے کہ ا س بات کے کافی امکانات ہیں کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے۔سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق جب امریکا کا دوسرا طیارہ بردار جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکا ہے ، ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے مشرق وسطیٰ …

واشنگٹن۔28جنوری (اے پی پی):یورپی تجزیہ نگاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبر دار کیا ہے کہ ا س بات کے کافی امکانات ہیں کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے۔سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق جب امریکا کا دوسرا طیارہ بردار جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکا ہے ، ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار مائیکل ڈوران نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غیر متوقع رد عمل کا امکان حقیقی ہے اور امریکا کسی چیز کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت ملک میں ایک وسیع اثر ورسوخ رکھتی ہے، اس میں متعدد نسلی گروہ شامل ہیں جن کی اپنی قیادت سے مضبوظ وابستگی موجود ہے ، ایرانی حکومت کو اپنے عوام میں مذہبی اثر و رسوخ بھی حاصل ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ شروع ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 جنوری کو ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے ایرانی شہریوں سے وعدہ کیا کہ ان کی مدد راستے میں ہے ۔

تاہم کچھ ہی دن بعد امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکومت کوگرفتار کئے گئے مظاہرین کو پھانسی نہ دینے کا وعدہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کو چین کو روکنے کے اس کے پیسیفک فلیٹ مشن سے جلدی میں ہٹا دیا گیا ہے۔ یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کو عام طور پر گرین لینڈ اور ناروے کے درمیان شمالی بحر اوقیانوس میں چینی اور روسی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کا کام سونپا جاتا ہے، اسے بھی مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔

ایسے میں یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار ایلی گیرانمایہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومتی استحکام کو مقامی سطح پر زمینی دباؤ اور آسمانوں سے بمباری سے خطرہ لاحق ہو گیا تو ایران اپنے تمام کارڈز کو کھونے سے پہلے ہی استعمال کر سکتا ہے ۔اگرچہ ایران کو اس طرح کے علاقائی تنازعہ سے سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا لیکن دوسری طرف ٹرمپ کے اس قسم کے فیصلہ کن اقدام کی مکمل کامیابی کا امکان بھی نہیں ہے۔

اب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا کی سب سے بڑی فوجی مہم جوئی پر غور کر رہی ہے۔جہاں ایران تقریباً 1,648,195 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ عراق سے تقریباً چار گنا بڑا ہے۔ایران کی آبادی 90 ملین سے زیادہ ہے۔ یہ عراق سے تقریباً 3.5 گنا زیادہ ہے۔

ان عوامل کا مطلب ہے کہ امریکا یا نیٹو کو ایران میں ریاستی جبر کو پائیدار طریقے سے روکنے یا حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے فوجی اثاثو ں کی تعیناتی میں کہیں اور کے مقابلے میں بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جیسا یا ملتا جلتا سلوک ممکن بھی ہوا تو ایران کی موجودہ حکومت باقی رہنے کی صورت میں ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو کوئی ریلیف ملنے کا امکان بالکل ختم ہو جائے گا۔