ٹیسلا کے منافع میں نمایاں کمی، ایلون مسک کا اے آئی منصوبے میں سرمایہ کاری کا اعلان

نیویارک۔29جنوری (اے پی پی):الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا نے کہا ہے کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران اس کے منافع میں 61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ گاڑیوں کی فروخت میں کمی اور اخراجات میں اضافہ ہے، جبکہ چیف ایگزیکٹو ایلون مسک ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق ٹیسلا کمپنی، جو خود کو ایک ہارڈویئر پر …

نیویارک۔29جنوری (اے پی پی):الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا نے کہا ہے کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران اس کے منافع میں 61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ گاڑیوں کی فروخت میں کمی اور اخراجات میں اضافہ ہے، جبکہ چیف ایگزیکٹو ایلون مسک ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق ٹیسلا کمپنی، جو خود کو ایک ہارڈویئر پر مبنی کاروبار سے ’’فزیکل اے آئی کمپنی‘‘ میں منتقل ہوتے ہوئے بیان کرتی ہے، نے 16 جنوری کو ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی xAI میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے۔

31 دسمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں ٹیسلا کا منافع 840 ملین ڈالر رہا، جو ایک سال قبل 2.1 ارب ڈالر تھا، جبکہ آمدن 24.9 ارب ڈالر رہی جو سالانہ بنیاد پر 3.1 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔کمپنی کی جانب سے کم منافع کی توقع پہلے ہی کی جا رہی تھی، کیونکہ ٹیسلا نے جنوری کے آغاز میں چوتھی سہ ماہی اور پورے سال کے دوران گاڑیوں کی ترسیل میں کمی کی اطلاع دی تھی۔ تاہم کمپنی کی پریزنٹیشن میں دیگر عوامل کی بھی نشاندہی کی گئی، جن میں تنظیمِ نو کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق و ترقی کے لیے زیادہ فنڈنگ، بلند ٹیرف کا دباؤ، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ماحولیاتی پالیسیوں میں تبدیلی کے بعد ایمیشن ٹیکس کریڈٹس سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی شامل ہے۔

ٹیسلا نے اپنی آئندہ پیش گوئی میں 2026 کے لیے گاڑیوں کی فروخت کا کوئی واضح ہدف نہیں دیا۔ جنوری 2025 کی آمدنی رپورٹ میں کمپنی نے گاڑیوں کی فروخت میں ’’دوبارہ اضافے‘‘ کی امید ظاہر کی تھی، تاہم 2025 میں ٹیسلا کی فروخت 9 فیصد کمی کے بعد 16 لاکھ گاڑیوں تک محدود رہی۔یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ٹیسلا کو چین کی بی وائی ڈی سمیت دیگر کمپنیوں سے سخت مسابقت کا سامنا ہے، جبکہ ایلون مسک کو امریکی سیاست میں متنازع شخصیات کی حمایت پر تنقید کا بھی سامنا رہا۔ٹیسلا نے کہا کہ اس وقت اس کی توجہ فیکٹریوں میں ’’زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت کے استعمال‘‘ پر ہے، جبکہ مجموعی ترسیل کا انحصار مصنوعات کی مجموعی طلب اور دیگر عوامل پر ہوگا۔ریں اثنا، کمپنی کے حصص کی قیمت میں بعد از اوقاتِ کار کاروبار کے دوران 3.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔