لاہور۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ شائقین نے پی ایس ایل11 سے قبل اسٹیڈیم کی بنیادی سہولیات بہتر بنانے اور ٹکٹنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین سید محسن نقوی سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔کرکٹ کے دیوانے اور صحافی اس وقت کی جاری سیریز کو بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 …
پی ایس ایل11سے قبل اسٹیڈیم کی سہولیات مزید بہتر بنائی جائیں،شائقین کرکٹ

مزید خبریں
لاہور۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ شائقین نے پی ایس ایل11 سے قبل اسٹیڈیم کی بنیادی سہولیات بہتر بنانے اور ٹکٹنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین سید محسن نقوی سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔کرکٹ کے دیوانے اور صحافی اس وقت کی جاری سیریز کو بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے ساتھ ساتھ پی ایس ایل 11 کے لیے ایک اہم ریہرسل قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں شائقین کا اصرار ہے کہ کھیل کے اعلیٰ معیار کے ساتھ ساتھ اسٹیڈیم میں شائقین کو دی جانے والی سہولیات بھی عالمی معیار کی ہونی چاہئیں۔پی سی بی کی جانب سے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے کی کوششوں کے باوجود شائقین ابھی بھی انتظامی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سب سے بڑی شکایت وقت پر پرنٹ شدہ ٹکٹوں کا جاری نہ ہونا ہے۔
مقامی کرکٹ شائق عتیق الرحمان،معمر رانا سنی ،شبیر اور زوار مظہر نے کہا کہ کھیل کی خوشی انتظامی رکاوٹوں کی نذر ہو رہی ہے۔ ہم اپنی محنت کی کمائی خرچ کرتے ہیں، گھنٹوں قطاروں یا ویب سائٹس پر ضائع کرتے ہیں، لیکن بدلے میں مشکلات ملتی ہیں۔حسنین طارق نے بھی نشاندہی کی کہ پیچیدہ ٹکٹنگ سسٹم نئی نسل کو اسٹیڈیم سے دور کر رہا ہے اوریہی وجہ ہے کہ لوگ اسٹیڈیم آنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
حسنین طارق نے کہاکہ اگر داخلے کے عمل کو آسان نہ بنایا گیا تو شائقین کرکٹ کاجنون کم ہوتا جائے گا،شائقین کی توجہ صرف ٹکٹوں تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیڈیم کے گیٹوں تک رسائی کے لیے خصوصی شٹل سروس فراہم کی جائے، خاص طور پر خواتین اور بزرگ شہریوں کے لیے جو طویل فاصلے پیدل طے کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔قذافی اسٹیڈیم کے مستقل وزٹر رانا ارحم نے جنرل انکلوژرز کی صورتحال کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ پی ایس ایل 11 میں تپتی دھوپ یا اچانک بارش میں کرکٹ دیکھنا شائقین کے صبر کا امتحان نہیں ہونا چاہیے۔
لاہور کے مضافات سے آئے رانا ارسل نے شٹل سروس کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ کسی آسائش کی چیز نہیں بلکہ خاندانوں اور بزرگ شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے۔صحافی برادری نے بھی اس صورتحال پر اپنی رائے دی اور حالیہ بہتری پر پی سی بی چیف کی تعریف کی لیکن یاد دلایا کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔ مارچ میں پی ایس ایل 11 کے آٹھ فرنچائزز تک پھیلائو اور نئے آکشن ماڈل کے پیشِ نظر موجودہ سیریز پی سی بی کی انتظامی صلاحیتوں کے لیے کڑا امتحان ہے۔








