توقع ہے امریکا کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرے گا ،وزیرِاعظم مارک کارنی

واشنگٹن۔30جنوری (اے پی پی):کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرے گا۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی، جہاں انہوں نے ان اطلاعات پر تبصرہ کیا کہ امریکی حکام نے خفیہ طور پر کینیڈا کے صوبے البرٹا کی آزادی کے حامی کارکنوں سے ملاقاتیں کیں۔انہوں …

واشنگٹن۔30جنوری (اے پی پی):کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرے گا۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی، جہاں انہوں نے ان اطلاعات پر تبصرہ کیا کہ امریکی حکام نے خفیہ طور پر کینیڈا کے صوبے البرٹا کی آزادی کے حامی کارکنوں سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرے گی۔ میں نے اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو میں ہمیشہ واضح موقف اختیار کیا ہے۔

کینیڈین وزیرِاعظم نے یقین دہانی کرائی کہ امریکی صدر نے ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کبھی بھی البرٹا صوبے کی علیحدگی کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے اس معاملے پر امریکی انتظامیہ کے سامنے تشویش کا اظہار کیا ہے،جس پر کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ ایسے خدشات اٹھانے کے لیے باقاعدہ ذرائع موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور عندیہ دیا کہ حالیہ عرصے میں انہوں نے یہ معاملہ امریکی فریق کے ساتھ نہیں اٹھایا۔ اس سے قبل فنانشل ٹائمز (ایف ٹی) نے رپورٹ کیا تھا کہ دائیں بازو کی البرٹا علیحدگی پسند تحریک البرٹا پراسپرٹی پراجیکٹ کے رہنماؤں نے گزشتہ سال اپریل سے اب تک تین مرتبہ واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس تحریک کے نمائندے فروری میں ایک اور ملاقات کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں امریکی محکمہ خزانہ کے حکام بھی شامل ہوں گے۔ اس ملاقات کے دوران وہ آزادی کے حق میں کامیاب ریفرنڈم کی صورت میں صوبے کی مالی معاونت کے لئے امریکا سے 500 ارب ڈالر کے قرض کی درخواست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔فنانشل ٹائمز نے بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ باقاعدہ رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسی ملاقاتوں کے دوران کوئی وعدے یا ضمانتیں نہیں دی جاتیں۔

وائٹ ہاؤس نے بھی کہا ہے کہ اس نے اس تحریک کے اقدامات کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کوئی ضمانت فراہم کی ہے۔ 24 جنوری کو امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ کینیڈا کا صوبہ البرٹا آزادی سے متعلق ریفرنڈم کرا سکتا ہے اور اس تناظر میں انہوں نے اسے امریکا کے لئے ایک فطری شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کینیڈین وفاقی حکومت صوبے کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہے کیونکہ وہ البرٹا سے برٹش کولمبیا کے بحرالکاہلی ساحل تک تیل کی پائپ لائن بنانے کے منصوبوں کی مخالفت کر رہی ہے۔

 

مزید خبریں