سپریم کورٹ نکاح نامے میں درج معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، درخواستیں خارج

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ جہیز اور حقِ مہر سے متعلق دائر دو درخواستیں خارج کر دیں اور کہا کہ عدالت ایسے خاندانی اور باہمی رضامندی کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ فریقین کے درمیان طے پانے والے نکاح نامے کا معاملہ ہے۔درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ نکاح نامے میں درج حقِ مہر کی ادائیگی شوہر کی …

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ جہیز اور حقِ مہر سے متعلق دائر دو درخواستیں خارج کر دیں اور کہا کہ عدالت ایسے خاندانی اور باہمی رضامندی کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ فریقین کے درمیان طے پانے والے نکاح نامے کا معاملہ ہے۔درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ نکاح نامے میں درج حقِ مہر کی ادائیگی شوہر کی قانونی ذمہ داری ہے اور اس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب کوئی شخص شادی کرتا ہے تو نکاح نامے میں درج تمام شرائط، بشمول حقِ مہر، کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے۔ حقِ مہر میں جو چیزیں تحریر کی گئی ہوں، شوہر ان کی ادائیگی کا پابند ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بطور حقِ مہر 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے اور شوہر 20 تولہ سونا ادا کرنے کو تیار ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تھوڑا اور دے دیں تو بیگم مطمئن ہو جائے گی، اور کہا کہ بیوی کو مطمئن رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت ایسے خاندانی اور باہمی رضامندی کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ فریقین کے درمیان طے پانے والے نکاح نامے کا معاملہ ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے جہیز اور حقِ مہر سے متعلق دائر کی گئی مختلف درخواستیں خارج کر دیں۔یہ سماعتیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیں۔

 

مزید خبریں