ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے وفاقی وزیر رانا محمد قاسم نون کے ہمراہ برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران حسین کی ملاقات ، پاک برطانیہ تعلقات سمیت مختلف امور بارے تبادلہ خیال کیا

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون کے ہمراہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن عمران حسین نے 15 رکنی وفد کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس دوران پاک برطانیہ پارلیمانی، معاشی اور اقتصادی تعلقات،وہاں مقیم پاکستانیوں کے کردار، ملک کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مسئلہ کشمیر سمیت مختلف امور بارے تفصیلی تبادلہ …

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون کے ہمراہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن عمران حسین نے 15 رکنی وفد کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس دوران پاک برطانیہ پارلیمانی، معاشی اور اقتصادی تعلقات،وہاں مقیم پاکستانیوں کے کردار، ملک کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مسئلہ کشمیر سمیت مختلف امور بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق وفد میں عمران حسین کے والد، سابق رکن برطانوی پارلیمنٹ اور سماجی تنظیم آرفن ان نیڈز کے کنٹری ڈائریکٹر محمد فیصل اسحاق سمیت ہیڈ آف فنڈ ریزنگ بھی شامل تھے۔ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کےدرمیان پارلیمانی، معاشی اور اقتصادی تعلقات، برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے کردار، پاکستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مسئلہ کشمیر سمیت مختلف امور بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آرفن ان نیڈز کے نمائندوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو بتایا کہ یہ تنظیم دنیا کے چودہ ممالک میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے، تنظیم یتیموں کی فلاح و بہبود، تعلیم اور سماجی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور پاکستان کے پسماندہ علاقوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور اور مظفرآباد میں تنظیم کے مراکز قائم ہو چکے ہیں جبکہ 1200 بچوں کو تعلیمی وظائف دیے گئے ہیں۔ سماجی تنظیم کا ایک طالب علم اب پی ایچ ڈی کر رہا ہے جبکہ ایک طالبہ لیڈی ڈاکٹر بن چکی ہے، اس کے علاوہ بیواؤں کو ماہانہ راشن فراہم اور ان کے لیے گھروں کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یتیموں اور بیواؤں کے لیے یہ قابلِ تحسین کام ہے جس کا دائرہ کار ملک کے مزید پسماندہ علاقوں تک بڑھایا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے 24 پسماندہ اضلاع میں سے 17 صوبہ بلوچستان میں واقع ہیں جہاں دہشت گردی، امن و امان، سکیورٹی اور تجارتی مسائل درپیش ہیں، ایسے علاقوں میں فلاحی منصوبوں سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو ایشیا کا سنٹرل گیٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پسماندگی کا شکار ہے جسے مشترکہ کاوشوں سے دور کیا جا سکتا ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ موجودہ حکومت پسماندہ علاقوں بالخصوص بلوچستان پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، مواصلاتی نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے اور طویل سفر کا دورانیہ کم ہو کر چند گھنٹوں تک محدود ہو گیا ہے۔

انہوں نے سی پیک اور گوادر منصوبوں کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے مقامی آبادی، خطے اور قریبی ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے سیدال خان ناصر نے کہا کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت بالخصوص میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے بھرپور آواز اٹھائی ہے۔سمندر پار پاکستانیوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بیرون ملک مقیم مخیر حضرات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران حسین نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو برطانیہ کے دورے کی دعوت دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر کشمیری رہنما برطانیہ میں مسئلہ کشمیر کو ہر اہم فورم پر اجاگر کرتے ہیں جس کے باعث دنیا بھارت کے اصل چہرے سے آگاہ ہو چکی ہے۔وفد نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی بھابی کے انتقال پر ان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔وفد نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

مزید خبریں