وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ،ہیپا ٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کے فروغ کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں ہیپا ٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کے فروغ کا جائزہ لیا گیا۔وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)کے اشتراک سے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کے فروغ سے متعلق اس اجلاس میں وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا …

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں ہیپا ٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کے فروغ کا جائزہ لیا گیا۔وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)کے اشتراک سے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کے فروغ سے متعلق اس اجلاس میں وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا (ایچ ڈی وی)سنگین طبی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، یہ جگر کو متاثر کرنے والا ایک منفرد اور خطرناک وائرس ہے جو صرف اسی صورت بیماری پیدا کرتا ہے جب مریض ہیپاٹائٹس بی وائرس ( ایچ بی وی)سے بھی متاثر ہو۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی بڑی تعداد کے باعث ہیپاٹائٹس ڈیلٹا عوامی صحت کا اہم مسئلہ بن چکا ہے جس سے مؤثر حکمتِ عملی، بروقت تشخیص اور مربوط علاج کے ذریعے نمٹنا ناگزیر ہے۔

اجلاس میں چین کی معروف دوا ساز کمپنی ہُواہوئی ہیلتھ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی،شرکا نے پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس سے نمٹنے کے لیے موجودہ صورتحال، چیلنجز اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا ۔چینی کمپنی کے نمائندوں نے جدید تحقیق پر مبنی ہیپاٹائٹس ڈیلٹا تھراپی HH-003 کی پیش رفت سے آگاہ کیا جو حال ہی میں فیز ٹو کے کامیاب بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز مکمل کر چکی ، اس دوا کو چین میں محفوظ اور مؤثر ہونے کی بنیاد پر منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے جبکہ امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے )نے اس علاج کو بریک تھرو تھراپی کا درجہ دیا ہے۔

وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومتِ پاکستان، ہُواہوئی ہیلتھ اور ملک کی ممتاز مقامی دوا ساز کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرے گی، اس شراکت داری کے تحت جدید حیاتیاتی ادویات کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سنگین طبی مسئلہ بنتا جا رہا ہے،یہ جگر کو متاثر کرنے والا ایک منفرد اور خطرناک وائرس ہے جو صرف اسی صورت بیماری پیدا کرتا ہے جب مریض ہیپاٹائٹس بی وائرس سے بھی متاثر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی بڑی تعداد کے باعث ہیپاٹائٹس ڈیلٹا عوامی صحت کا اہم مسئلہ بن چکا ہے جس سے مؤثر حکمتِ عملی، بروقت تشخیص اور مربوط علاج کے ذریعے نمٹنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مرض جگر کے کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے تقریباً 20 فیصد مریض ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں تاہم معمول کی تشخیصی جانچ کے فقدان کے باعث بڑی تعداد میں مریض بروقت تشخیص سے محروم ہیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اس دوا کی سستی، معیاری اور پائیدار فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستانی عوام کو محفوظ، معیاری اور جان بچانے والی جدید ادویات تک بروقت رسائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈریپ ایک شفاف، سائنسی اور عالمی معیار کے مطابق منظوری کے عمل کو یقینی بنائے گا۔ اجلاس میں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں فیز تھری کلینیکل ٹرائلز کے ریگولیٹری عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ سخت نگرانی اور عالمی معیار کے مطابق یہ جدید علاج جلد از جلد مستحق مریضوں تک پہنچایا جا سکے۔

مزید خبریں