اقوام متحدہ ۔3فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کے مریضوں کو علاج کے لیے قبول کریں۔شنہوا کےمطابق اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کو رضاکارانہ اور محفوظ طریقے سے آمد و رفت کی اجازت …
اقوامِ متحدہ کی رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد عالمی برادری غزہ کے مریضوں کا علاج کروا نے کی اپیل

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔3فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کے مریضوں کو علاج کے لیے قبول کریں۔شنہوا کےمطابق اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کو رضاکارانہ اور محفوظ طریقے سے آمد و رفت کی اجازت دی جانی چاہیے، جبکہ رفح اور دیگر گزرگاہوں کے ذریعے ضروری انسانی امداد مناسب مقدار میں اور کم پابندیوں کے ساتھ غزہ میں داخل ہونی چاہیے۔
اوسی ایچ اے کے مطابق اس وقت غزہ سے 18 ہزار 500 سے زائد مریض، جن میں 4 ہزار بچے بھی شامل ہیں، طبی انخلا کے منتظر ہیں، کیونکہ انہیں درکار علاج مقامی سطح پر دستیاب نہیں۔ ادارے نے کہا کہ سب سے مؤثر حل مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں مریضوں کی منتقلی کی بحالی اور غزہ میں تباہ شدہ طبی سہولیات کی مرمت ہے۔اوسی ایچ اے نے واضح کیا کہ جب تک یہ اقدامات ممکن نہیں ہوتے، رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ مزید مریضوں کو قبول کریں تاکہ ہر فرد کو بروقت علاج میسر آ سکے۔ادارے کے مطابق عالمی ادارۂ صحت غزہ سے طبی انخلا کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔
رفح کراسنگ کی محدود بحالی کے نتیجے میں بعض مریض اور ان کے ساتھ آنے والے افراد براہِ راست مصر منتقل ہوئے، جبکہ دیگر افراد اسرائیل کے زیرِ انتظام کیرم شالوم کراسنگ کے ذریعے گزرے۔اوسی ایچ اے نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے رفح سے واپس آنے والوں کو خان یونس کے ناصر اسپتال تک پہنچانے کے لیے بس سروس فراہم کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جہاں اوچا اور اس کے شراکت داروں نے استقبالی مرکز قائم کیا ہے۔
بیان کے مطابق استقبالی مرکز پر ماہرِ نفسیات اور تحفظ کے ماہرین تعینات ہیں، جبکہ غذائی اشیا، معلوماتی مواد اور انٹرنیٹ سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ واپس آنے والوں کو فوری مدد اور ضروری خدمات تک رسائی دی جا سکے۔








