اقوام متحدہ ۔3فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں سماجی یکجہتی اور ہمدردی پر مبنی طویل المدتی نگہداشت کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ترک فلاحی ادارے دارالعجزہ (Darülaceze) کو ایک مثالی ماڈل قرار دیا ہے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک ضمنی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے …
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا سماجی یکجہتی اور ہمدردی پر مبنی نگہداشت کے اداروں کے فروغ پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔3فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں سماجی یکجہتی اور ہمدردی پر مبنی طویل المدتی نگہداشت کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ترک فلاحی ادارے دارالعجزہ (Darülaceze) کو ایک مثالی ماڈل قرار دیا ہے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک ضمنی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دارالعجزہ 1895 سے ریاستی ذمہ داری، فلاحی جذبے، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی شمولیت کے امتزاج کے ذریعے ایک مضبوط اور پائیدار نگہداشت نظام کی عملی مثال پیش کر رہا ہے۔
یہ تقریب ترکیہ ، پاکستان، قطر اور آذربائیجان کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا عنوان "سماجی یکجہتی پر مبنی جامع طویل المدتی نگہداشت کا نظام: ترکی کے 130 سال پرانے ادارے دارالعجزہ کو بہترین عملی مثال کے طور پر پیش کرنا” تھا ۔پاکستا نی سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دارالعجزہ کے اصول پاکستان کی سماجی اور اخلاقی روایات سے گہری مطابقت رکھتے ہیں، جہاں یکجہتی پر مبنی نگہداشت نہ صرف عوامی پالیسی بلکہ معاشرتی عمل کا بھی حصہ ہے۔
انہوں نے پاکستان کے سرکاری سماجی تحفظ کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو ملک کے سماجی تحفظ کے نظام کی بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ سے مالی اعانت کے تحت چلنے والا یہ پروگرام لاکھوں کم آمدنی والے خاندانوں، بالخصوص خواتین کی سربراہی والے گھرانوں کو نقد معاونت فراہم کر رہا ہے، جو غربت کے خاتمے، آمدنی کے تحفظ اور سماجی شمولیت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس واضح پالیسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ کمزور طبقات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری اور وقار و حقوق کا معاملہ ہے۔پاکستان بیت المال کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ادارہ بزرگوں، خواتین، معذور افراد، یتیموں اور بے سہارا افراد کی معاونت کے لیے طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہا ہے، جن میں رہائشی نگہداشت مراکز، طبی امداد، بحالی اور فنی تربیت شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ خدمات حکومتی فنڈنگ، زکوٰۃ، فلاحی عطیات اور رضاکارانہ تعاون کے امتزاج سے جاری ہیں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان میں منظم فلاحی سرگرمیوں اور رضاکارانہ خدمات کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ روایت کا حوالہ دیتے ہوئے ایدھی فاؤنڈیشن کو انسانیت کی خدمت کی عالمی علامت قرار دیا، جو عوامی عطیات اور رضاکاروں کے ذریعے پناہ گاہیں، ایمبولینس سروسز، اولڈ ایج ہومز اور ہنگامی امدادی نظام چلا رہی ہے۔
انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان میں فلاحی ٹرسٹس، مذہبی تنظیمیں اور نجی شعبے کے کارپوریٹ سماجی ذمے داری کے منصوبے طویل المدتی نگہداشت اور کمیونٹی سطح کی سماجی خدمات میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔آخر میں پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ سماجی یکجہتی پر مبنی نگہداشت کے ماڈلز کو محض بہترین مثالوں تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی پالیسی کا حصہ بنانے کے لیے ان کی دستاویز سازی، مالی معاونت اور توسیع میں سرمایہ کاری کریں۔








