ٹوکیو۔4فروری (اے پی پی):جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کو 2022 میں گولی مار کر ہلاک کرنے والے شخص تتسویایا یاماگامی نے بدھ کو اپنی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ شنہوا کے مطابق نارا ڈسٹرکٹ کورٹ نے 21 جنوری کو 45 سالہ تتسویایا یاماگامی کو قتل اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی، اس نے جولائی 2022 …
جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کے قاتل نے عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی

مزید خبریں
ٹوکیو۔4فروری (اے پی پی):جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کو 2022 میں گولی مار کر ہلاک کرنے والے شخص تتسویایا یاماگامی نے بدھ کو اپنی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ شنہوا کے مطابق نارا ڈسٹرکٹ کورٹ نے 21 جنوری کو 45 سالہ تتسویایا یاماگامی کو قتل اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی، اس نے جولائی 2022 میں نارا کی ایک سڑک پر انتخابی مہم کے دوران تقریر کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں دفاع کے اس موقف کو مسترد کر دیا گیا کہ سزا کے تعین میں ملزم کی ناموافق یا مشکل پرورش کو رعایت کے طور پر شامل کیا جائے۔تتسویایایاماگامی کے وکیل ماساآکی فوروکاوا کے مطابق، ابتدائی فیصلے پر نظرِ ثانی اور ممکنہ اصلاح کے لیے ملزم سے مشاورت کے بعد اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران تتسویایا یاماگامی نے شنزو آبے کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے یہ اقدام یونِیفکیشن چرچ کے خلاف ذاتی رنجش کے باعث کیا۔ اس کا موقف تھا کہ اس کی والدہ کی جانب سے مذہبی تنظیم کو دیے گئے بھاری عطیات کے باعث اس کا خاندان مالی تباہی کا شکار ہوا، اور اس کے خیال میں اس تنظیم کے شنزو آبے اور دیگر جاپانی سیاست دانوں سے قریبی تعلقات تھے۔
دفاع کی جانب سے عدالت سے زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا دینے کی درخواست کی گئی تھی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ملزم ایک مذہبی گروہ کے مبینہ نقصان کا شکار رہا اور اس کی المناک پرورش نے اسے اس جرم پر اکسایا۔تاہم، عدالت نے کہا کہ اگرچہ تتسویایا یاماگامی کی پرورش میں سنگین مشکلات شامل تھیں، لیکن یہ سزا میں نمایاں کمی کا جواز فراہم نہیں کرتیں۔








